بھارت پاکستانی فن سے خوفزدہ ہے، اسی لیے پابندیاں لگاتا ہے: عتیقہ اوڈھو
کراچی: (ویب ڈیسک) پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستانی فن اور فنکاروں پر پابندیاں عائد کرتی ہے کیونکہ پاکستانی ڈرامے اور فلمیں ایک منظم پروپیگنڈا بیانیے کو چیلنج کرتی ہیں اور اسے کمزور بناتی ہیں۔
حال ہی میں سینئر اداکارہ نے ایک انٹرویو دیا جہاں انہوں نے مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، دورانِ انٹرویو انہوں نے بالی ووڈ میں پاکستانی فنکاروں کی مخالفت پر بھی کھل کر بات کی اور ثقافتی تبادلے، سیاست کے اثرات اور باہمی احترام کے فقدان پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
سینئر اداکارہ نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایک وقت میں بھارتی پروڈکشن ہاؤسز پاکستانی اداکاروں کو کاسٹ کرنے کے لیے مخصوص فوجی فنڈ جمع کروانے کی شرط عائد کرتے تھے، یہ شرط بھارتی فلمی اداروں کی جانب سے لگائی جاتی تھی جو فن اور سیاست کے تصادم کی واضح مثال ہے۔
عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف فنکارانہ آزادی کے منافی تھے بلکہ ثقافتی تبادلے کے عمل کو بھی شدید نقصان پہنچاتے رہے، وہ اس معاملے پر اندرونی طور پر منقسم ہیں کیونکہ ایک طرف وہ سمجھتی ہیں کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن دوسری طرف خودداری ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فنکاروں اور فلم سازوں نے برسوں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی، بھارتی فلمیں پاکستان میں ریلیز کی گئیں اور ان کے اداکاروں کو مدعو بھی کیا گیا جبکہ پاکستانی ڈرامے آج بھی بھارت میں بے حد مقبول ہیں مگر سیاست ہر بار رکاوٹ بن جاتی ہے۔
سینئر اداکارہ کے مطابق بھارت اب مسلسل پاکستان کے خلاف مواد تیار کر رہا ہے اور پاکستانی فنکاروں کو تنقید اور نفرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ثقافتی تبادلہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ باہمی ہو، یکطرفہ نہیں۔
عتیقہ اوڈھو نے مزید کہا کہ بھارت نے سیاسی بنیادوں پر پاکستانی فلموں کو ریلیز نہیں ہونے دیا، انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ نے عالمی سطح پر شاندار کامیابی حاصل کی مگر اس کے باوجود بھارت میں اسے ریلیز کی اجازت نہیں دی گئی، اسی رویّے کے باعث پاکستان نے بھی بھارتی فلموں پر پابندی عائد کی جو نفرت نہیں بلکہ رویّوں کا ردعمل ہے۔