پودوں کے سانس لینے کا عمل دیکھنا ممکن ہوگیا، سائنسدانوں کا انکشاف
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے پہلی بار پودوں کے سانس لینے کے عمل کو براہِ راست دیکھنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
نئی سائنسی تحقیق کے ذریعے پودوں کے پتوں میں موجود باریک سوراخوں کی سرگرمی کو ریکارڈ کیا گیا جو ہوا اور پانی کے تبادلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، یہ پیش رفت مستقبل میں بہتر فصلوں کی تیاری اور پانی کے مؤثر استعمال میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق امریکا کی یونیورسٹی آف الینوائے اربانا شیمپین کے سائنسدانوں نے کی، انہوں نے ایک جدید آلہ تیار کیا ہے جس کے ذریعے پودوں کے پتوں میں موجود نہایت باریک سوراخوں جنہیں ’سٹوماٹا‘ کہا جاتا ہے، کی سرگرمی کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، یہ چھوٹے سوراخ پودوں میں ہوا کے لین دین کا کام کرتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم نے ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پودے کس طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن اور پانی کے بخارات خارج کرتے ہیں، یہی عمل پودوں کی خوراک بنانے اور انہیں زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
یونیورسٹی آف الینوائے کے شعبہ نباتاتی حیاتیات اور انسٹیٹیوٹ فار جینومک بائیولوجی سے وابستہ اینڈریو لیکی نے بتایا کہ پودے دن کی روشنی میں یہ سوراخ کھولتے ہیں تاکہ خوراک بنا سکیں جبکہ رات یا زیادہ گرمی اور خشکی میں انہیں بند کر لیتے ہیں تاکہ پانی ضائع نہ ہو، نئی مشین کی مدد سے یہ عمل پہلی بار حقیقی وقت میں دیکھا گیا ہے۔
تحقیق کے دوران پتے کے ایک چھوٹے حصے کو ایک خاص ڈبے میں رکھا گیا جہاں روشنی، درجہ حرارت، نمی اور ہوا کی مقدار کو قابو میں رکھا جاتا ہے، اس سے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ مختلف حالات میں پودے کس طرح ردِعمل دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانی کی کمی اور شدید گرمی فصلوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے، اس تحقیق سے یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ کون سے پودے کم پانی میں بھی بہتر طور پر زندہ رہ سکتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس نئی معلومات کی بنیاد پر مستقبل میں ایسی فصلیں تیار کی جا سکتی ہیں جو خشک سالی کا بہتر مقابلہ کر سکیں اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔