غیر قانونی حراست کا معاملہ: متعلقہ پولیس افسر کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی جانب سے ایک شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے کے معاملے پر اہم تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ڈی پی او اوکاڑہ کو متعلقہ پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور عملدرآمد رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے یہ تحریری حکم مقصودہ بی بی کی درخواست پر جاری کیا، فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق گلفام علی کو 27 جون 2026 کو جیل سے باقاعدہ رہا کیا گیا، تاہم رہائی کے فوراً بعد سادہ لباس میں ملبوس افراد نے اسے جیل کے باہر سے اپنی تحویل میں لے لیا۔
عدالت کے تحریری حکم کے مطابق واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد بھی ریکارڈ پر موجود ہیں، جن سے معاملے کی تحقیقات ممکن ہیں، عدالتی حکم پر سی سی ڈی انسپکٹر ڈیفنس لاہور اختر علی نے رپورٹ جمع کروائی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گلفام علی کو اوکاڑہ میں درج ایک مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
جسٹس امجد رفیق نے قرار دیا کہ دستیاب ویڈیو شواہد سی سی ڈی کی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتے اور دونوں میں واضح تضاد موجود ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں آبزرویشن دی کہ اگر کسی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا جائے اور بعد ازاں عدالت میں غلط یا گمراہ کن رپورٹ جمع کروائی جائے تو یہ ایک قابل دست اندازی جرم ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے ڈی پی او اوکاڑہ کو ہدایت کی کہ جیل کے باہر سے شہری کو حراست میں لینے والے متعلقہ پولیس افسر کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا جائے اور اس ضمن میں پیش رفت رپورٹ مقررہ مدت میں لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی جائے۔