عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی الشفا ہسپتال منتقلی کے کیس میں وفاقی آئینی عدالت کے آرڈر پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی، اٹارنی جنرل ہماری معاونت کریں کہ وفاقی آئینی عدالت کیسے کیس سن سکتی ہے؟

سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے عمران خان کی سپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ فریقین کی جانب سے کمرۂ عدالت میں کوئی نہیں؟ جس پر عدالتی عملے نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد کی حاضری لگی ہوئی ہے، وہ اس وقت عدالت میں موجود نہیں۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اٹارنی جنرل آ جائیں پھر سب کو سنیں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے کل حکم نامہ جاری کیا ہے، وفاقی آئینی عدالت نے اس مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آئینی عدالت کا حکم نامہ ججز کو پڑھ کر سنایا۔

جسٹس شاہد وحید نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا اٹارنی جنرل آفس میں موجود ہیں؟ جس پر رانا اسد نے کہا کہ جی، اٹارنی جنرل آفس میں موجود ہیں۔

اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت میں پیش ہو کر آئینی عدالت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ آئین کے مطابق آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ ہی نہیں، کیسز بھی منگوا سکتی ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا عدالت نے 18 اگست کے آرڈر میں سرکاری افسران کو طلب کیا تھا، لیکن کوئی پیش نہیں ہوا، کیا افسران کا پیش نہ ہونا حکم عدولی نہیں؟ کہیں نہ کہیں کوئی غلط فہمی موجود ہے، علاج سرکاری یا نجی ہسپتال میں ہوگا، یہ پوائنٹ فی الحال سائیڈ پر رکھ دیں، کیا ہمارے آرڈر کے باقی حصے پر عمل ہو رہا ہے؟ کیا ملاقاتیں اور بچوں سے بات کرائی گئی؟

فاضل جج نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت قرآن و سنت کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، وفاقی آئینی عدالت صرف آئین کی تشریح کر سکتی ہے، آئین کی تشریح کے علاوہ تمام معاملات سپریم کورٹ کے پاس ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا شریعت بینچ قرآن و سنت کی تشریح کر سکتا ہے، جس پر جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کیا عدالت آج درخواستیں خارج کر دے یا سماعت نہ کرے؟ کیا ہم آئینی عدالت کے حکم کے پابند ہیں؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس بات کا تعین ہونا ہے کہ آئینی عدالت کہاں کہاں سے ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔

جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم نامے میں لکھا ہے کہ ریکارڈ منگوا کر کیسز مقرر کئے جائیں، وفاقی آئینی عدالت میں کیسز مقرر کرنے کا لفظ ہمیں تنگ کر رہا ہے، اٹارنی جنرل ہماری معاونت کریں کہ وفاقی آئینی عدالت کیسے کیس سن سکتی ہے؟

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہوا تھا، سرکاری افسران میں سے کوئی بھی پیش نہیں ہوا، سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی ہے، اعتماد اور روابط کا شدید فقدان چل رہا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سرکاری افسران کو آج پیش ہونا چاہیے تھا۔

جسٹس شاہد وحید نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کر دیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہو گا کہ ایک موقع دے دیں، افسران شاید سمجھے ہوں کہ آج سماعت ہی نہیں ہوگی۔

فاضل جج نے کہا کہ نظرِ ثانی درخواست میں حکومت نے لکھا ہے کہ نجی ہسپتال میں علاج نہیں ہو سکتا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر ریکارڈ فراہم کر دیا ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سپریم کورٹ کا طبی سہولتیں سے متعلق آرڈر ابھی بھی موجود ہے، وفاقی آئینی عدالت سے آئین کی منشا سمجھنا چاہ رہے ہیں، عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کے قائل ہیں، سوالات کا منفی مطلب نہ لیجیے گا، یہ صرف سمجھنے کیلئے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار آئین میں واضح ہیں۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آئینی عدالت کے حکم میں لکھا ہے کہ وہ تعین کریں گے کہ بنیادی حقوق کے کیسز کون سن سکتا ہے، بنیادی حقوق کا معاملہ تو ہر کیس میں ہوتا ہے، شفاف ٹرائل کا بنیادی حق ہر فوجداری کیس میں سامنے آتا ہے۔

وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ عدالت کی آرٹیکل 175 ای پر معاونت کروں گا۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اپیل میں کوئی آئینی تشریح درکار نہیں تھی، توہینِ عدالت کی درخواستوں میں بھی آئین کی تشریح کی ضرورت نہیں، بانی پی ٹی آئی کو عدالتی حکم کے باوجود شفاء ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ آئینی عدالت نے مقدمات کا ریکارڈ منگوا کر سماعت کیلئے مقررکرنےکا حکم دیا، مقدمات کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کے حکم کے کیا نتائج ہوں گے؟ اٹارنی جنرل اس نکتے پر ہماری معاونت کریں۔

اٹارنی جنرل منصور اعوان کا کہنا تھا کہ مناسب ہوگا عدالت کیس پر سماعت 3 ہفتوں کیلئے موخر کر دے، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کا کیس 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...