خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے
اسلام آباد:(دنیا نیوز) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سرکاری بیوروکریسی کے بعض افسران کی بیرونِ ملک مستقل سکونت اختیار کرنے کی تیاریوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے، حکومتی سرپرستی حاصل کرنے اور ملک سے عزت و مراعات پانے والے افسران کی پاکستان کے ساتھ وابستگی کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بیوروکریسی میں قابل اور ایماندار افسران موجود ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں، تاہم ایک بڑی تعداد گزشتہ کئی برسوں سے کینیڈا، امریکا، برطانیہ اور یورپ کو اپنا مستقل مسکن بنا چکی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ بعض افسران نے سرکاری ملازمت کے دوران ہی بیرونِ ملک مستقل سکونت اختیار کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی، جس سے ان کی ملازمت کے دوران وطن اور سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ وابستگی کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں سے سرکاری افسران کی بیرونِ ملک منتقلی کے حوالے سے پرتگال کا نام سامنے آ رہا ہے اور وہ چند ماہ قبل بھی اس موضوع پر ایکس پر بیان دے چکے ہیں۔
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 18, 2026
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اس سلسلے میں جن افسران کے نام سامنے آ رہے ہیں، وہ برسوں سے مختلف حکومتوں کی توجہ اور سرپرستی حاصل کرتے رہے ہیں اور اہم عہدوں پر فائز ہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مستقل رہائش (پی آر) کے حصول میں مبینہ سہولت کاری کرنے والا ایک شخص متعدد دولت مند بیوروکریٹس سے بھاری رقوم وصول کرنے کے بعد فرار ہے، اس معاملے سے متعلق مختلف کہانیاں گردش کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے اپنے بیان میں متعلقہ افسران، مبینہ سہولت کار یا مالی لین دین کے حوالے سے تفصیلی شواہد پیش نہیں کیے۔
وفاقی وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے، جنہیں وطن نے عزت دی، جنہیں جائز یا ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرنے کے مواقع میسر آئے اور جو سیاست دانوں کے منظورِ نظر رہے، کیا ان کی ملک کے ساتھ وابستگی کو ملازمت کے پورے دورانیے میں شک و شبہے سے بالاتر سمجھا جا سکتا ہے؟
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آیا ایسے افسران اپنی سرکاری ملازمت کے دوران پاکستان کے ساتھ مستقل وابستگی رکھتے ہیں یا ان میں سے بعض مستقبل میں بیرونِ ملک منتقل ہونے کے منصوبوں کے تحت محض عبوری طور پر یہاں خدمات انجام دیتے ہیں۔
انہوں نے سرکاری افسران کی بیرونِ ملک منتقلی، مستقل رہائش کے انتظامات، مالی وسائل اور سرکاری ذمہ داریوں کے حوالے سے مزید اہم سوالات کو نمایاں کیا ہے، ان معاملات کی حقیقت جاننے کے لیے متعلقہ افسران کے اثاثوں، آمدن کے ذرائع، بیرونِ ملک سرمایہ کاری اور قانونی تقاضوں کی پابندی کا شفاف جائزہ ضروری ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments