پاک امریکا تعلقات پر سیمینار، مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھنے پر زور
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکا کے ٹرومین سینٹر میں ’’سلامتی سے خوشحالی تک: پاک امریکا تعلقات کا نیا دور‘‘ کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں ماضی کے بجائے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھنے پر زور دیا گیا۔
امریکا میں ہونے والے اس سیمینار میں سابق سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم اور دفاعی امور کے ماہرین کی شرکت کی، پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم بھی موجود تھے۔
سیمینار میں امریکا کی سابق سفارت کار رابن ریفیل، امریکی دفاعی امور کے ماہر کرنل ڈیوڈ اسمتھ اور دیگر ماہرین نے بھی شرکت کی۔
سیمینار میں پاکستان امریکا تعلقات، سفارت کاری، علاقائی استحکام، تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور بدلتے عالمی نظام پر گفتگو کی گئی، شرکاء نے پاکستان امریکا تعلقات کو ماضی کے تناظر سے نکال کر مستقبل کے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھانے پر زور دیا۔
امریکا کی اعلیٰ سفارتکار رابن ریفیل نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور سفارتی اثر و رسوخ کے باعث امریکا کے لیے اہم ملک ہے، پاکستان امریکہ تعلقات کو پائیدار بنانے کے لیے دونوں ممالک کو ادارہ جاتی سطح پر تعاون مضبوط بنانا ہوگا۔
رابن ریفیل نے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستانی کاروباری شراکت داروں سے منسلک کرنے پر زور دیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں مضبوط سفارتی موجودگی علاقائی کشیدگی اور رقابتوں میں کمی لانے میں مدد دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے عوام کے درمیان خاندانی اقدار، بچوں کی تعلیم اور سماجی خدمت جیسے شعبوں میں مشترکہ اقدار موجود ہیں۔
کرنل ڈیوڈ سمتھ نے کہا کہ پاکستان امریکا تعلقات کو صرف دفاع اور سلامتی تک محدود رکھنے کے بجائے دیگر شعبوں میں بھی وسعت دینے کی ضرورت ہے، پاکستان اور امریکہ کے درمیان ماضی کی غلط فہمیوں کی ایک وجہ تاریخ، ثقافت اور معاشرتی حقائق کو درست طور پر نہ سمجھنا بھی ہے۔
کرنل ڈیوڈ سمتھ نے پاکستان امریکہ تعلقات میں بحالی اور استحکام کے لیے عوامی رابطوں اور زمینی حقائق کو سمجھنے پر زور دیا۔
ڈاکٹر پیٹرک کرونن نے کہا کہ پاکستان امریکہ تعلقات میں مشترکہ مفادات کی بنیاد پر عملی تعاون کے کئی مواقع موجود ہیں، اہم معدنیات کے شعبے میں پاکستان امریکا تعاون دونوں ممالک کے لیے طویل مدتی اقتصادی فوائد کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر پیٹرک کرونن نے جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند کی اہمیت کے پیش نظر امریکی پالیسی میں اس خطے پر زیادہ توجہ دینے پر زور دیا، انہوں نے دہشت گردی کے مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے پاکستان امریکا تعلقات کو ماضی کے روایتی تناظر کے بجائے موجودہ حقائق اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق استوار کرنے پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان امریکا تعلقات کو بھارت یا افغانستان کے تناظر تک محدود رکھنے کے بجائے آزادانہ اور وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنا ہوگا۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان میں 83 امریکی بڑی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور امریکی سرمایہ کاری کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، پاکستان اور امریکہ کے درمیان اہم معدنیات، قابلِ تجدید توانائی، زراعت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے مواقع موجود ہیں۔
سردار مسعود خان نے تجارت اور کاروبار میں آسانی کے لیے وسیع اقتصادی فریم ورک تشکیل دینے پر زور دیتے ہوئے پاکستان امریکا دفاعی تعاون میں پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف پاک امریکا تعاون کی ضرورت ہے۔
منیر اکرم نے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، پاکستان فلسطین اور امریکا ایران معاملات سمیت مشرقِ وسطیٰ کے سفارتی امور میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارت کاری کا مقصد علاقائی استحکام اور سلامتی کے لیے تعاون کے امکانات کو فروغ دینا ہے۔
پاکستانی سفارت کار ڈاکٹر مریم سعید نے پاکستان امریکا تعلقات کو سلامتی کے محدود دائرے سے نکال کر اقتصادی تعاون اور خوشحالی کی جانب بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی، صلاحیتیں اور پیشہ ورانہ مہارتیں امریکی ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبوں کے لیے مواقع فراہم کرتی ہیں۔
ڈاکٹر مریم سعید نے کہا کہ گوگل، ایپل اور میٹا کی پاکستان میں دلچسپی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کی نشاندہی کرتی ہے، چین کے ساتھ پاکستان کا اقتصادی تعاون امریکہ کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کی راہ میں لازمی طور پر رکاوٹ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروباری مواقع اور مارکیٹ کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر آمنہ ضیا نے کہا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی نمائندگی اور اقلیتوں کی آواز کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا پائیدار استحکام کے لیے اہم ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments