طالبان کو پناہ دینے کے کیس میں 14 سال سزا کیخلاف اپیل، سپریم کورٹ کا اٹارنی جنرل کو نوٹس
اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے طالبان کو پناہ دینے کے کیس میں 14 سال سزا کے خلاف اپیل پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 ویں آئینی ترمیم کے بعد سابقہ فاٹا کے کیسز کے دائرہ سماعت پر معاونت طلب کر لی۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، عدالت نے اٹارنی جنرل کے علاوہ خیبرپختونخوا کے سٹیٹ کونسل ارشد حسین یوسفزئی اور درخواست گزار کی وکیل مہناز ایڈووکیٹ کو بھی معاونت کی ہدایت کی۔
دوران سماعت جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے استفسار کیا کہ کیا کوئی طالبان درخواست گزار کے گھر سے پکڑا گیا؟ جس پر کے پی حکومت کے اسٹیٹ کونسل نے بتایا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ موجود ہے۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سر آنکھوں پر، لیکن اسے ثابت بھی کرنا ہوتا ہے، 14 سال سزا دی گئی، کیا کوئی طالبان اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا؟ جو الزام جس پر مرضی لگا دو، الزام ہے کہ طالبان کو کھانا کھلایا۔
جسٹس عقیل احمد عباسی نے استفسار کیا کہ کیا کھانا کھلایا؟ جس پر جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیئے کہ پتہ نہیں کیا پکا ہوگا جو کھلایا۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے مزید کہا کہ کیس میں ایک پارٹی یا دوسری پارٹی، دونوں مظلوم ہیں، یہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے قبل کا کیس ہے، پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ہمارا دائرہ اختیار نہیں اور معاملہ واپس بھجوا دیا، پشاور ہائی کورٹ کا مؤقف تھا کہ انصاف دینے کے چشمے اُدھر ہیں۔
اسٹیٹ کونسل ارشد یوسفزئی نے بتایا کہ یہ 2016ء کا فیصلہ ہے جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے 3 رکنی بینچ کا 2024ء کا فیصلہ بھی موجود ہے، سپریم کورٹ نے مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments