یونیورسٹی آف لندن میں لیکچر کیلئے مدعو کیا جانا باعث اعزاز ہے: سارہ احمد

لندن: (حسیب ارسلان) چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کی چیئرپرسن اور رکن پنجاب اسمبلی سارہ احمد نے کہا ہے کہ جب سے انہوں نے بیورو کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، پچاس ہزار سے زائد بچوں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے، بیورو کے سکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ پاک فوج سمیت مختلف اہم اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) میں لیکچر کے بعد دنیا نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں سارہ احمد کا کہنا تھا کہ یو سی ایل کی جانب سے لیکچر کیلئے مدعو کیا جانا ان کیلئے باعثِ اعزاز ہے، لیکچر کے دوران شرکاء کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی کارکردگی اور اقدامات سے آگاہ کیا، تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ ایک برس میں دس ہزار چار سو بچوں کو ریسکیو کیا ہے، یعنی انہیں اپنی تحویل میں لیا ہے، ان میں ایسے بچے شامل ہیں جو سڑکوں پر رہ رہے تھے، بے سہارا تھے، تشدد یا زیادتی کا شکار ہوئے تھے، یا جنہیں ان کے والدین نے تنہا چھوڑ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو تحویل میں لینا ہمارے کام کا صرف پہلا مرحلہ ہے، اس کے بعد ہم ان کے تحفظ اور بحالی کیلئے ایک مکمل نظام کے تحت کام کرتے ہیں، ہم ان کی تربیت، خوراک، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، بیورو کے اپنے سکول ہیں جہاں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے، جو بچے گھر سے بھاگ جاتے ہیں یا گم ہو جاتے ہیں، ہم ان کے والدین اور دیگر اہلِ خانہ کو تلاش کر کے بچوں کو ان سے دوبارہ ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔

سارہ احمد نے کہا کہ کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ان کے والدین واپس قبول نہیں کرتے، انہیں چھوڑ دیتے ہیں یا جیل میں ہوتے ہیں، ایسے بچوں کی ذمہ داری بیورو خود اٹھاتا ہے، ہم ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرتے ہیں اور انہیں مختلف ہنر بھی سکھاتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں، گزشتہ ماہ ہی بیورو میں کئی سال تک پرورش پانے والے ایک یتیم بچے کی پاکستان آرمی میں بطور سپاہی بھرتی ہوئی، آج وہ پاکستان آرمی میں خدمات انجام دے رہا ہے، اسی طرح ہماری کچھ بچیاں نرسز بن چکی ہیں اور مختلف ہسپتالوں میں کام کر رہی ہیں، کچھ بچے ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کر رہے ہیں۔

ایم پی اے کا کہنا تھا کہ بچوں کے تحفظ کیلئے ہماری ہیلپ لائن 1121 چوبیس گھنٹے فعال رہتی ہے، اس پر کوئی بھی شخص کال کر کے کسی بچے کے ساتھ ہونے والی زیادتی، تشدد، غفلت یا کسی دوسرے مسئلے کی اطلاع دے سکتا ہے، گزشتہ سال اس ہیلپ لائن پر تقریباً 6,900 کالز موصول ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ ملتان میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعے کی میں سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہوں، اس معاملے میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جس یتیم خانے میں وسیم عباس نامی بچہ رہ رہا تھا، اس ادارے نے چند روز قبل بیورو میں رجسٹریشن کیلئے درخواست دی تھی۔ تاہم، ہم نے اس کی درخواست مسترد کر دی اور اسے رجسٹریشن دینے سے انکار کیا، اس کے بعد گزشتہ روز میری ٹیم نے وہاں کارروائی کرتے ہوئے مزید 16 کم عمر بچوں کو ریسکیو کیا، ہم آگاہی مہم بھی چلا رہے ہیں، ہم نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کئے ہیں اور ہماری ٹیمیں گھر گھر جا کر لوگوں کو بچوں کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے آگاہ کرتی ہیں۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کی چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ ہم بچوں کو اچھے اور برے لمس، یعنی گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ، کے بارے میں بتاتے ہیں تاکہ وہ نامناسب رویوں کو پہچان سکیں اور ضرورت پڑنے پر کسی قابلِ اعتماد بڑے کو آگاہ کر سکیں، بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ہمارا ایک اہم حالیہ اقدام ڈیجیٹل سیفٹی بھی ہے۔

سارہ احمد نے کہا کہ آج کل بچوں کو آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ اور انٹرنیٹ پر دیگر خطرات کا سامنا ہے، اسی لیے میں نے پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جو منظور ہوئی، اس قرارداد کے ذریعے پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لئے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، ہمارا مقصد بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس تقریباً پندرہ سو بچے موجود ہیں، بچوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، کیونکہ جو بچے گمشدہ ہوتے ہیں، انہیں ان کے والدین اور اہلِ خانہ سے ملانے کے بعد واپس بھیج دیا جاتا ہے، اس کے علاوہ، قانونی طریقۂ کار کے تحت گود لینے کی سہولت بھی دستیاب ہے، مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ لندن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے بعض خاندانوں نے بیورو سے نومولود بچوں کو گود لیا ہے، میں خود بھی حال ہی میں ان خاندانوں سے ملی ہوں، یہ دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے کہ جن بچوں کو ہم نے کبھی کچرے کے ڈھیروں یا شاپنگ بیگز سے ریسکیو کیا تھا، وہ آج ایک محفوظ ماحول میں معیاری زندگی گزار رہے ہیں۔

سارہ احمد نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہر بچے کو تحفظ، محبت، تعلیم اور ایک باوقار زندگی کا موقع ملے تاکہ وہ اپنے ماضی کی مشکلات سے نکل کر ایک روشن مستقبل کی تعمیر کر سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...