نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر عدالتی فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخ کرنے سے متعلق ایف آئی اے کی درخواست پر سماعت سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی، سماعت کے موقع پر نجف حمید اپنے وکیل میاں علی اشفاق کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ ریکارڈ ریاست کا تھا جس میں ردوبدل کیا گیا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق اگر شکایت کنندہ کے ساتھ معاملات طے پا بھی جائیں تو ضمانت نہیں دی جا سکتی، مزید تفتیش کے لیے نجف حمید کی کسٹڈی درکار ہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ نجف حمید کی ضمانت خارج کی جائے۔

دفاع کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وکالتی تاریخ کا یہ انوکھا کیس ہے کہ تفتیشی آفیسر خود شکایت کنندہ ہے، کیس کے اصل شکایت کنندہ نے عدالت میں پیش ہو کر بیان دیا تھا کہ اس کے معاملات طے پا گئے ہیں اور شکایت کنندہ نے عدالت میں اپنا بیان حلفی بھی جمع کروایا تھا۔

ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا کہنا تھا کہ تفتیشی آفیسر کو اس کیس میں پارٹی کیسے تصور کیا جا سکتا ہے، استدعا ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے اور وزارت داخلہ کو تفتیشی آفیسر کے خلاف کارروائی کے لیے لکھا جائے، شکایت کنندہ کا اسٹیٹس تبدیل نہیں ہو سکتا جب کہ ایف آئی آر بھی وہی ہو، عدالت نے اپنے حکم میں لکھا تھا کہ شکایت کنندہ نے عدالت میں پیش ہو کر بیان دیا کہ اس کا معاملہ طے پا گیا ہے، عدالتی حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شکایت کنندہ کیس کو مزید نہیں چلانا چاہتا۔

دفاعی وکیل نے مزید کہا کہ 16 سال میں اگر تفتیش نہیں ہو سکی تو اب کیا تفتیش کی جائے گی، اس کیس میں سرکاری زمین کا کوئی معاملہ بھی شامل نہیں ہے، ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کے مطابق ایف آئی اے نے درخواست میں لکھا ہے کہ انہیں ضمانت کا علم نہیں تھا، حالانکہ عدالتی حکم نامے کے مطابق ضمانت کے وقت اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل عدالت میں موجود تھے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر نجف حمید کی ضمانت خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں