ایمان مزاری اور ہادی علی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

اسلام آباد: (دنیا نیوز) انسدادِ دہشتگردی عدالت نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو ہائیکورٹ کے باہر جھگڑا کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

 ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف ہائیکورٹ کے باہر جھگڑا کیس کی سماعت انسدادِ دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی۔

ملزمان کو پولیس کے سخت پہرے میں کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا اور تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو تھانہ سیکرٹریٹ میں گزشتہ برس درج ہونے والے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم انہوں نے اس مقدمے کی ایف ائی آر عدالت میں پیش نہیں کی۔

تفتیشی افسر نے ملزمان کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جو کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے مسترد کردی اور ان دونوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

سماعت کے بعد عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کو جوڈیشل کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا جس کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی کو 14 روز کےلیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

واضح رہے گزشتہ روز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے ڈسٹرکٹ کورٹ جاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ڈسٹرکٹ کورٹ

علاوہ ازیں ایمان مزاری اور ہادی علی کو وڈیولنک کے ذریعے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں پیش کیا گیا۔ سماعت جج افضل مجوکہ نے کی۔

جج افضل مجوکہ نے پوچھا کہ کیا آپ جرح شروع کریں گے؟ ایمان مزاری نے بتایا کہ ہم پر تشدد کیاجارہاہے، ہمیں پانی کھانا نہیں دیا جارہا، تمھاری وجہ سے سارا کچھ ہو رہا ہے، ہم عدالتی کارروائی کا بائکاٹ کرتےہیں۔

جج افضل مجوکہ نے کہا کہ آپ کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟ فیصلے کا انتظار کریں، ایمان مزاری اور ہادی علی سماعت ختم ہونے سے قبل کرسی سے اٹھ کر چلے گئے، اس پر جج افضل مجوکہ نے عدالتی عملے کو حکم دیا کہ سب ریکارڈ کرکے مجھے دیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں