ویڈیو سکینڈل، ڈاکٹرز اور افسران کو شوکاز نوٹس، پی ایم ڈی سی کو خط

لاہور: (دنیا نیوز) محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مبینہ ویڈیو بنانے کے معاملے پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے متعدد ڈاکٹرز اور سینئر انتظامی افسران کے خلاف کارروائی شروع کر دی۔

محکمہ صحت کے مطابق ذمہ دار سینئر افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ پانچ پوسٹ گریجوایٹ ڈاکٹروں کے خلاف انضباطی کارروائی کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو باضابطہ خط بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ آپریشن مریضہ کی ویڈیو بنانے پر ڈاکٹر طیبہ، ڈاکٹر ماہم، ڈاکٹر زینب، ڈاکٹر عائشہ اور ڈاکٹر عیسیٰ کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید برآں، محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کی جانب سے سابق ایم ایس ڈاکٹر فرح، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عظمیٰ، سینئر کنسلٹنٹ اینستھیزیا ڈاکٹر منیر، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر روطابہ، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر منزہ اور سینئر ویمن میڈیکل افسر ڈاکٹر درہ ارم کے خلاف بھی پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت نے متعلقہ افسران کو فرائض میں غفلت، انتظامی کمزوری، نااہلی اور کنٹرول میں ناکامی کا مرتکب قرار دیا ہے۔

سیکرٹری صحت عظمت محمود نے تمام متعلقہ افراد سے 7 دن کے اندر تحریری جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ آصف بلال لودھی کو وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر ہیئرنگ افسر مقرر کیا گیا ہے۔

مزید برآں سیکرٹری بلدیات میاں شکیل احمد کو بھی ہیئرنگ افسر مقرر کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق کیس میں ملوث ڈاکٹرز اور سینئر افسران کو 7 دن کے اندر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے یا تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ایم ایس اور ایچ او ڈی سمیت سابق ڈبلیو ایم ڈاکٹر اقرا حفیظ، چارج نرس ڈاکٹر اقرا زاہد، چارج نرس فوزیہ رشید اور سٹاف ممبر حسیب الرؤف کو بھی شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں