وکلا عدالتوں سے غیر ضروری ریلیف طلب نہ کیا کریں: نہال ہاشمی
کراچی: (دنیا نیوز) گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا کہ وکلا عدالتوں سے غیر ضروری ریلیف طلب نہ کیا کریں۔
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے وکلا سے خطاب میں کہا ہے کہ بانیٔ پاکستان محمد علی جناح برصغیر کے مسلمانوں کے وکیل تھے، 1973 کا آئین بنانے والے ذوالفقار علی بھٹو بھی وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے جبکہ ایٹمی دھماکے کرنے والے نواز شریف بھی وکیل ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ وہ چالیس برس سے انہی کوریڈورز میں آتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہائیکورٹ آتے رہیں گے، وکلا کے درمیان احترام کا رشتہ ہوتا ہے اور وہ وفاقی و سندھ حکومت کے سامنے وکلا برادری کی نمائندگی کریں گے۔
گورنر سندھ نے زور دیا کہ نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہوگا کیونکہ آج وکلا برادری کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو جلد انصاف فراہم کیا جائے جبکہ کفایت شعاری کے لیے منی لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بے چینی پائی جاتی ہے اور کچھ قوتیں ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال پیدا کرنا چاہتی ہیں، اسرائیل نصف صدی سے دہشتگردی میں ملوث ہے جبکہ کچھ عناصر اسے فادر لینڈ قرار دیتے ہیں۔
نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے 93 فیصد افراد کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، پاکستان آرمی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس کے خلاف کردار ادا کریں۔
گورنر سندھ نے کہا ہے کہ ایک وکیل جس انداز میں بات کرتا ہے اس طرح ادیب اور شاعر بھی اظہار نہیں کرتے، انہوں نے وکلا برادری پر زور دیا کہ وہ اپنے پیشے کے وقار کو برقرار رکھیں کیونکہ ہماری عزت ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے، پاکستان کے وکلا محمد علی جناح کے وارث ہیں اور اگر قائداعظم نہ ہوتے تو آج ہم برٹش انڈیا میں زندگی گزار رہے ہوتے۔
نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ آج ہمیں انصاف کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی اور آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں، بھارت فالس فلیگ آپریشن کی کوشش کر سکتا ہے، اس لیے ماضی کی غلطیاں دہرانے سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ عدالتوں سے غیر ضروری ریلیف طلب نہ کیا جائے اور قانونی تقاضوں کے مطابق معاملات کو آگے بڑھایا جائے، وہ اپنے حلف کے پابند ہیں اور ذمہ داریوں کو ٹھنڈے دماغ سے ادا کرنے کے لیے سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
مزید برآں، گورنر سندھ نے کہا کہ تشدد پر مبنی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا اور ہمیں ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ تشکیل دینا ہوگا، وہ وکلا سے رابطے میں رہیں گے اور گورنر ہاؤس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں، انہیں تنخواہ نہیں مل رہی، بیوی ڈاکٹر ہے ان کے اہل خانہ اپنے ذرائع سے آمدن حاصل کر رہے ہیں۔