لاہور ہائیکورٹ کا پی ایس ایل میچز کے دوران ٹریفک بندش پر اظہار تشویش

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ تدارک کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میچز کے دوران ٹریفک کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

سماعت جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر کی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہر سال پی ایس ایل ہوتا ہے مگر ہر موومنٹ پر گھنٹوں ٹریفک روک دی جاتی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

دوران سماعت پی ایچ اے کی جانب سے درختوں کی ٹرانسپلانٹیشن سے متعلق قواعد عدالت میں پیش کیے گئے، عدالت نے ہدایت کی کہ جوڈیشل واٹر کمیشن ان قواعد کا جائزہ لے اور اگر ضروری ہو تو مزید بہتری کے لیے سفارشات بھی شامل کرے، عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غیر مقامی درخت لاہور کے ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

سماعت کے دوران پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ عدالتی احکامات پر جوڈیشل واٹر کمیشن نے دورہ کیا اور جہاں درخت کاٹے گئے تھے وہاں نئے درخت لگا دیے گئے ہیں۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف شکاگو کی ایک رپورٹ کے مطابق گرمی کی شدت کے باعث دنیا بھر میں اموات میں اضافہ ہوگا، اور ہر تین میں سے ایک موت پاکستان میں ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ پنجاب اس سے زیادہ متاثر ہوگا، جو انتہائی تشویشناک ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ ایک اور عالمی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سب سے زیادہ فضائی آلودگی پاکستان میں ریکارڈ کی گئی، عدالت کے مطابق پی ایس ایل کے دوران ٹریفک بندش کے باعث گاڑیوں کا اخراج بڑھ جاتا ہے، جس سے سموگ میں اضافہ ہوتا ہے اور پورے سال کی محنت ایک ماہ میں ضائع ہو جاتی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سب سے زیادہ فضائی آلودگی گاڑیوں سے ہو رہی ہے، جبکہ ہر دن متعدد بار ٹریفک کو ایک ایک گھنٹے کے لیے روک دیا جاتا ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے، عدالت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدہ اقدامات کرے۔

مزید برآں عدالت نے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) سے بھی درختوں سے متعلق سفارشات لینے کی ہدایت کی اور آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ سرکاری محکموں سے عملدرآمد رپورٹس طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں