یوٹیوب پر بچوں کیلئے اے آئی ویڈیوز بند کی جائیں: ماہرین کا گوگل سے مطالبہ

نیویارک: (ویب ڈیسک) ماہرین نے گوگل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوٹیوب اور یوٹیوب کڈز پر بچوں کیلئے تیار کی جانے والی اے آئی ویڈیوز کو دکھانے یا تجویز کرنے سے روکے۔

200 سے زائد ماہرین، اداروں اور تعلیمی اداروں نے گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور یوٹیوب کے سی ای او نیل موہن کو خط لکھا ہے، جس میں بچوں کیلئے اے آئی ویڈیوز کے تعلیمی معیار اور اثرات پر تشویش ظاہر کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز زیادہ تر مالی فائدے کیلئے تیار کی جاتی ہیں اور بچوں کی توجہ اور سماجی مہارتوں کیلئے نقصان دہ ہو سکتی ہیں، ان کے مطابق ایسے مواد کو دیکھنے سے بچے حقیقت اور فریب میں فرق کرنے میں الجھ سکتے ہیں۔

سوشل سائیکولوجسٹ جوناتھن ہائیڈٹ، ادارہ فیئر پلے اور نیشنل الائنس ٹو ایڈوانس ایڈولیسنٹ ہیلتھ کے ماہرین نے کہا کہ بچوں کی سکرین ٹائم، خاص طور پر خراب معیار کی اے آئی ویڈیوز، حقیقی دنیا کے تجربات کی جگہ لے رہی ہیں، جو بچوں کی جذباتی اور سماجی نشوونما کیلئے ضروری ہیں۔

یوٹیوب صارفین سے کہتا ہے کہ وہ مصنوعی یا ترمیم شدہ مواد کی نشاندہی کریں اور اسپیمی اے آئی ویڈیوز کے خلاف اقدامات کرتا ہے، یوٹیوب کے سی ای او نے جنوری میں کہا تھا کہ اے آئی مواد کا نظم و نسق ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، تاہم بچوں کے حقوق کے ماہرین کے مطابق چھوٹے بچے ان نشانات کو پڑھ یا سمجھ نہیں سکتے، اس لیے یہ اقدامات کم مؤثر ہیں۔

مارچ میں گوگل نے Animaj میں سرمایہ کاری کی جو اے آئی اینیمیشن سٹوڈیو ہے اور بچوں کیلئے مواد تیار کرتا ہے، جسے ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں کیلئے نہیں دکھانا چاہیے۔

یہ مہم اس وقت سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا کمپنیوں کی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، حالیہ عدالتی فیصلوں میں گوگل اور میٹا پلیٹ فارمز کو نوجوان صارفین میں سوشل میڈیا کی لت کیلئے ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کا زور ہے کہ بچوں کی صحت اور نشوونما کیلئے اے آئی ویڈیوز کو محدود کرنا ضروری ہے تاکہ وہ حقیقی تجربات سے محروم نہ ہوں اور دماغی و سماجی ترقی متاثر نہ ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں