سانحہ گل پلازہ: کمیشن کو کے ایم سی اور بورڈ آف ریونیو نے تفصیلی جوابات جمع کرا دیئے
کراچی: (دنیا نیوز) سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن میں میونسپل کمشنر کے ایم سی اور بورڈ آف ریونیو سندھ نے تفصیلی جوابات جمع کرا دیئے۔
کمیشن نے مزید وضاحت کے لئے سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو نوٹس جاری کر دیا۔ میونسپل کمشنر کے ایم سی نے اپنے تحریری جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ گل پلازہ کی زمین کے استعمال یا مقصد میں تبدیلی کی کبھی کوئی منظوری نہیں دی گئی۔
ڈائریکٹر لینڈ نے تصدیق کی ہے کہ متعلقہ نوعیت کی کسی منظوری کا کوئی ریکارڈ سرکاری دستاویزات میں موجود نہیں ہے، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سندھ نے بھی اپنی رپورٹ میں گل پلازہ کی اراضی کو صوبائی حکومت کی ملکیت قرار دیا ہے یہ زمین کراچی میونسپلٹی کی ملکیت تھی، بعد ازاں 1936ء میں اس اراضی کو ایسٹ انڈیا ٹرام وے کمپنی لمیٹڈ کو 99 سالہ لیز پر دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کے ایم سی کے ملکیتی دعوے کی تصدیق یا تردید سے متعلق کوئی واضح ریکارڈ دستیاب نہیں، اس اراضی کے استعمال سے متعلق اصل شرائط پر عملدرآمد کا کوئی آڈٹ یا جائزہ بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد مزید وضاحت طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا، پوچھا گیا ہے گل پلازہ کی اراضی کو ٹرام وے مقاصد کے لئے الاٹ کرنے کے مؤقف کی دستاویزی بنیاد کیا ہے جبکہ ریکارڈ کے جائزے میں زمین کے استعمال کا مقصد درج نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی۔
ایسی صورت میں زمین کے استعمال یا مقصد کے تعین کے لئے سروے کرانا، ریکارڈ میں لانا بورڈ آف ریونیو کی ذمہ داری ہے یا نہیں؟ اس مقصد کے لئے کوئی سروے یا کارروائی کی گئی؟
جوڈیشل کمیشن نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ تمام سوالات کے جوابات اور مکمل رپورٹ کمیشن سیکرٹریٹ میں جمع کرائی جائے۔