اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان کے مزید پانچ دیہات خالی کرنے کا حکم
بیروت: (ویب ڈیسک) اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے پانچ دیہات کے رہائشیوں سے فوری طور پر ان علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
دہشت گرد ریاست اسرائیل کا یہ اقدام حزب اللہ کے خلاف ممکنہ حملوں اور لڑائی کو روکنے کے لیے ہونے والی جنگ بندی کے باوجود سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے پیش نظر، فوج اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔
پیغام میں لبنان کے جنوبی ساحل پر واقع شہر طائر کے قریب پانچ دیہاتوں کے نام شائع کیے گئے ہیں، متنبہ کیا گیا کہ اپنی جان بچانے کے لیے، اپنے گھروں کو فوری طور پر خالی کریں اور ان علاقوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور رہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 16 اپریل کو اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کیا گیا تھا تاہم اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان ایک دوسرے پر وقتا فوقتا حملوں کی خبریں سامنے آتی ہیں۔
دوسری طرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کا تیسرا دور امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں شروع ہو گیا۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنگ بندی معاہدے کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیلی حملے اور حزب اللہ کی جوابی کارروائیاں مکمل طور پر رکی نہیں ہیں۔
مذاکرات کا مقصد نئے جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنا ہے، اس لیے اس میں کئی پیچیدہ امور بھی زیر بحث ہیں جن میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا اور حزب اللہ کے ہتھیاروں کے معاملے پر بات چیت شامل ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات موجود نہیں، اسی لیے یہ مذاکرات ایک حساس سفارتی عمل تصور کیے جا رہے ہیں۔