امریکا کے ایرانی فوجی ٹھکانوں پر حملے، جواب میں امریکی فضائی اڈا نشانہ
تہران، واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے شہر گورُک اور جزیرہ قشم میں ایرانی ریڈار اور ڈرون تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔
ایکس (X) پر جاری ایک بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ یہ کارروائی ایران کی جارحانہ سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی، جن میں بین الاقوامی پانیوں میں ایک MQ-1 ڈرون کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، ایک گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن، اور دو یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کو تباہ کیا، جو علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے واضح خطرہ تھے۔
کویت میں میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف فضائی دفاع متحرک
کویتی فوج کے جنرل سٹاف نے اعلان کیا ہے کہ ملک کا فضائی دفاع اس وقت میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔
فوج نے کہا کہ اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔
پاسداران انقلاب کا فضائی اڈے پر جوابی حملہ
ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اُس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں واقع جزیرہ سیریک کے ایک مواصلاتی ٹاور پر حملہ کیا گیا تھا۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی نے کہا کہ ہرمزگان صوبے کے جزیرہ سیریک پر واقع مواصلاتی ٹاور پر امریکی فوج کی جارحیت کے تقریباً ایک گھنٹے بعد آئی آر جی سی ایرو اسپیس فورس کے جنگی طیاروں نے اُس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے یہ حملہ کیا گیا تھا اور مقررہ اہداف کو تباہ کر دیا گیا۔
اس سے قبل اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کویت بھر میں سائرن بج اٹھے اور فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا تھا۔