اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات
تل ابیب: (ویب ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور ان کا انتخابی اتحاد حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکا، حکمراں جماعت نے عرب جماعتوں پر انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کر دیئے۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق لیکوڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب جماعتوں نے رشوت، دھمکیوں، تشدد، جعل سازی اور غیر قانونی سافٹ ویئر کے ذریعے ووٹروں کو متحرک کرنے سمیت سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔
رپورٹ کے مطابق عرب قیادت والی جماعتوں، جن میں رعام بھی شامل ہے، نے انتخابات میں ریکارڈ ووٹ حاصل کیے ہیں اور ابتدائی اندازوں کے مطابق انہیں پارلیمان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
ان نشستوں کے باعث نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد اور ان کی مخالف یہودی جماعتوں کے لیے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس مبینہ دھاندلی سے متعلق سیکڑوں بیانات اور دیگر شواہد موجود ہیں۔
حکمراں جماعت نے نقد رقم اور رعام کے انتخابی پرچوں والے ہزاروں لفافوں، انتخابی عملے کو دھمکانے، ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالنے اور ووٹروں کی تعداد اور بیلٹ لفافوں کے ریکارڈ میں فرق جیسے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
لیکوڈ نے پولیس، داخلی سلامتی کے ادارے اور مرکزی انتخابی کمیٹی سے فوری اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب مرکزی انتخابی کمیٹی کے ایک عہدیدار نے چینل 12 کو انٹرویو دیتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کے دعووں کو مسترد کر دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments