بھارت میں سکھوں کے بدترین قتلِ عام کو 42 سال بیت گئے

نئی دہلی: (دنیا نیوز) بھارت میں سکھوں کے بدترین اور شرمناک قتلِ عام کو 42 سال بیت گئے۔

یکم نومبر 1984ء بھارتی تاریخ کے دردناک واقعات میں شمار ہوتا ہے، جب سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد شروع ہونے والے سکھ مخالف فسادات کو آج 42 سال گزر چکے ہیں۔

31 اکتوبر 1984ء کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے خلاف جان لیوا تشدد شروع ہوا، جو 3 روز تک بلا روک ٹوک جاری رہا، ان فسادات کے دوران ہزاروں بے گناہ سکھ قتل کئے گئے، جبکہ سیکڑوں خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ افسوس ناک واقعات محض سکھ برادری کے خلاف تشدد نہیں بلکہ انسانی حقوق اور بنیادی اقدار پر گہرا حملہ تھے، عالمی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی جریدوں نے بھی سکھوں کے قتلِ عام کو بھارتی تاریخ کا شرمناک باب قرار دیا ہے۔

ڈپلومیٹ کے مطابق انتہاپسند ہندوؤں نے ووٹر فہرستوں کے ذریعے چن چن کر سکھوں کی شناخت کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتارا، ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بھارتی حکومت کی سرپرستی میں سکھوں کے خلاف باقاعدہ نسل کشی کی مہم چلائی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...