غزہ:اسرائیلی حملے،مزید 200 سے زائد شہید،سابق صیہونی آرمی چیف کا بھتیجا مارا گیا

غزہ:اسرائیلی  حملے،مزید  200  سے  زائد  شہید،سابق  صیہونی آرمی  چیف  کا  بھتیجا  مارا  گیا

غزہ(اے ایف پی ،رائٹرز)اسرائیلی فورسز کے غزہ پر حملوں سے مزید 200سے زائد فلسطینی شہید،سینکڑوں زخمی ہو گئے ۔

دوسری جانب غزہ میں جھڑپوں کے دوران سابق صیہونی آرمی چیف کا بھتیجا بھی مارا گیا،ادھر غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہسپتال ناکارہ ہونے کے باعث زخمیوں کے جسم میں کیڑے پڑ گئے ،زخمی بچوں کے اعضا بغیر بیہوش کئے کاٹے جا رہے ،شہری فاقہ کشی پر مجبور ہیں ۔تفصیلات کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا ،غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ خان یونس ، رفح اور دیگر علاقوں میں صیہونی حملوں سے مزید 200سے زائد فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں ، دیر البلح شہر کے الاقصیٰ ہسپتال میں گزشتہ 24 گھنٹے کے د وران 133 لاشیں اور 160 زخمی لائے گئے ۔ شہید ہونیوالوں کی تعداد 17700 ہوگئی، حملوں میں 48780 افراد زخمی ہوئے ۔علاوہ ازیں غزہ کی پٹی میں حماس کیساتھ جھڑپوں میں مزید چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے ۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ہلاک ہونیوالوں میں سابق آرمی چیف اور وزیر گادی آئزن کوت کا 19سالہ بھتیجا بھی شامل ہے ، قبل ازیں گادی آئزن کوت کا بیٹا بھی لڑائی میں مارا گیا تھا۔

دریں اثنا حماس کی القسام بریگیڈ نے کہا کہ ان کے جنگجوؤں نے اسرائیل کے جنوبی علاقے رعیم پر راکٹ داغے ہیں ۔ ادھر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شمالی غزہ کے جزوی طور پر فعال 2 ہسپتالوں میں سے ایک العدوہ ہسپتال کا اسرائیلی فوج اور ٹینکوں نے گھیراؤ کر لیا ہے ، ادھر حماس اور فلسطینی اتھارٹی نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کرنے پر امریکا کی سخت مذمت کی، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ غزہ میں جاری خونریزی کا ذمہ دار امریکاہے ۔ حماس نے امریکی ویٹو کو غزہ پر قبضے کیلئے قتل عام میں ایک براہ راست شراکت دار قرار دیا۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کرنے پر امریکا کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں حماس کے خاتمے کی جائز لڑائی جاری رکھے گا۔ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہاکہ وہ امریکا کے انتہائی مشکور ہیں۔ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے کہا امریکی ویٹو انسانی اقدار کے منافی ہے ، ایران نے خبردار کیا کہ امریکی ویٹو سے خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے ۔ فلاحی تنظیم آکسفام کی بشریٰ خالدی نے کہا کہ غزہ کی صورتحال محض تشویشناک نہیں، تباہ کن ہے ۔ترجمان امریکی قومی سلامتی کونسل جان کربی نے کہا کہ امریکا اسرائیل پر سول آبادی کے تحفظ کیلئے ‘‘ڈو مور ’’پر زور دے رہا ہے ۔سیو دی چلڈرن کی الیگزینڈرا سائع نے کہا کہ غزہ کے ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کے زخموں سے کیڑے ملے ہیں، زخمی بچوں کو بے ہوش کئے بغیر ان کے اعضا کاٹے جا رہے ہیں، سینکڑوں افراد کیلئے بمشکل ایک ٹائلٹ ہے ، بے گھر فلسطینیوں کی بڑی تعداد خوراک کی تلاش میں گلیوں میں ماری ماری پھرتی ہے ۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم نے کہا ہے کہ غزہ کے حالات زندگی اور طبی سہولتوں کے فقدان کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ اسرائیلی بمباری سے کہیں زیادہ اموات بیماری سے ہو سکتی ہیں۔فلاحی تنظیم ‘‘بھوک کے خلاف ایکشن’’ کی ترجمان نے ایک ویڈیو کانفرنس میں غزہ میں فوری جنگ بندی اور امدادی سامان بھجوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتحال انسانی وقار کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے ، بے گھر فلسطینیوں کیلئے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ خود کو اور اپنے بچوں کو صاف رکھیں۔ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کہا کہ غزہ کے شہر شجاعیہ کے ایک سکول سے فوج کو ہتھیار ملے ہیں۔حوثی باغیوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کیساتھ کام کرنیوالی تمام شپنگ کمپنیوں کو بحیرہ احمر میں نشانہ بنایا جائے گا۔ حوثی باغیوں کے فوجی ترجمان نے ایک اعلامیہ میں کہا کہ اگر غزہ کو ضروری خوراک اور ادویات نہ ملیں تو اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جانیوالے تمام جہاز ہمارے نشانے پر ہوں گے ،غزہ جنگ میں اب تک 420 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 2 ہزار سے زائد معذور ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق محکمہ دفاع نے 2 ہزار سے زیادہ فوجیوں کے معذور ہونے کی تصدیق کی ہے ۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 5 ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے ہیں ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں