نیپال :مظاہرے جاری ، ہلاکتیں 25ہوگئیں ،633زخمی
کٹھمنڈو (اے ایف پی ،مانیٹرنگ ڈیسک )نیپال میں سوشل میڈیا پابندی اور کرپشن کے خلاف احتجاج کے بعد وزیراعظم کے پی شرما اولی کے مستعفی ہونے کے باوجود مظاہرے جاری ہیں اور۔۔۔
اب تک 25افرادہلاک اور 633زخمی ہوچکے ہیں ،،پُرتشدد ہنگاموں کے دوران نیپال کے سابق وزیراعظم جھالا ناتھ کھنل کی اہلیہ بھی آگ میں جل کر شدیدزخمی ہوگئیں ۔ کٹھمنڈو اور دیگر شہروں میں کرفیو کے باوجود صدر رام چندر پوڈیل اور وزیراعظم کے پی شرما اولی کی رہائش گاہ کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیاتھا۔سابق وزرائے اعظم پشپا کمل دہل عرف پراچندا، شیر بہادر دیوبا اور وزیر توانائی دیپک کھڑکا سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں کے گھروں کو بھی مظاہرین نے نقصان پہنچایا اور ان پر حملہ کیا۔ سابق وزیراعظم شیر بہادر دیوبہ اور ان کی اہلیہ وزیر خارجہ ڈاکٹر آروز رانا کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا،مشتعل ہجوم نے انہیں سڑکوں پر گھسیٹا۔ شیر بہادر دیوبہ کو زخمی حالت میں چھوڑ دیا گیا لیکن ان کی اہلیہ کا پیچھا کرکے زدوکوب کیا گیا،دونوں کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے ۔سابق وزرائے اعظم اور کابینہ کے ارکان کو مشتعل ہجوم سے بچانے کیلئے انہیں فوجی بیرکوں میں منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ پرتشددعلاقوں میں آج شام تک کیلئے کرفیونافذکردیاگیاہے ۔نوجوان مشتعل افراد نے سابق خاتون چیف جسٹس سشیلا کارکی کو عبوری وزیر اعظم بنانے کا مطالبہ کردیا جبکہ کارکی نے ایک بھارتی چینل کیساتھ گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ جب مجھ سے درخواست کی گئی تو میں عہدہ قبول کرلوں گا ۔ فوجی ترجمان نے میڈیا کو بتایاکہ نیپال کے آرمی چیف نے گزشتہ روز نوجوانوں کے احتجاجی رہنماؤں اور دیگر اہم جماعتوں سے ملاقات کی ہے ،جنرل اشوک راج سگدل سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں اور جنرل زیڈ کے نمائندوں کے ساتھ بھی میٹنگ کر رہے ہیں، آج بھی ملاقاتیں شیڈول ہیں جس کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کیاجائے گا ۔عوام فوج اور پولیس کے سخت اقدامات کے باوجود کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل رہے ہیں حالانکہ وزیراعظم کے پی شرما اولی سمیت اہم رہنما مستعفی ہوچکے اور سوشل میڈیا پرپابندی بھی اُٹھالی گئی ہے ۔دوسری طرف نیپالی پولیس کا کہناہے کہ 13ہزار500سے زائد قیدی ملک بھر کی جیلوں سے فرار ہوچکے ہیں ۔