اسرائیل :فوجی بھرتی کیخلاف احتجاج، نوجوان ہلاک، 3 زخمی

اسرائیل :فوجی بھرتی کیخلاف احتجاج، نوجوان ہلاک، 3 زخمی

مغربی کنارے میں اسرائیلی نسل پرستی برسوں سے جاری:اقوام متحدہ اسرائیل نے اردن سرحد پر بارودی سرنگیں صاف کرنے کا آغاز کردیا

جنیوا،یروشلم(اے ایف پی)یروشلم میں بدھ کو الٹراآرتھوڈوکس یہودیوں کی فوجی بھرتی کے خلاف احتجاج کے دوران ایک نوجوان ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ۔ مظاہرین نے ٹریفک بند ، بسوں کو نقصان پہنچایا اور پولیس پر مختلف اشیا پھینکیں، اس دوران ایک بس نے  تین افراد کو زخمی کیا اور ایک 18 سالہ نوجوان کو روند دیا۔ ایمر جنسی سروس نے نوجوان کو موقع پر مردہ قرار دیا۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی نسل پرستی برسوں سے جاری ہے ۔ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف برسوں سے جاری امتیازی اور علیحدگی پالیسی شدت اختیار کر گئی ہے ۔ یو این حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا کہ فلسطینیوں کے روزمرہ حقوق، جیسے پانی، تعلیم، صحت اور کھیتی باڑی، اسرائیل کی امتیازی پالیسیوں کے تحت محدود ہیں۔ رپورٹ میں اسے نسلی امتیاز اور علیحدگی کا ایک انتہائی سنگین مظہر قرار دیا گیا۔اسرائیلی وزارتِ دفاع نے اردن سے ملحقہ سرحدی علاقے میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع کر دیا ۔وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ 1960 کی دہائی سے بچھائی گئی تقریباً 500 پرانی اینٹی ٹینک سرنگیں تباہ کر دی گئی ہیں۔حکام کے مطابق نئی باڑ میں جدید راڈار، کیمرے اور نگرانی کا نظام نصب کیا جائے گا۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں