یمنی جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عید روس الزبیدی ابو ظہبی فرار
عدن بندرگاہ سے فرار ہوئے ، موغادیشو سے طیارے کے ذریعے امارات پہنچ چکے :سعودی فوجی اتحاد الزبیدی اب بھی یمن کے اندر موجود :عبوری کونسل، تحقیقات کر رہے :صومالی امیگریشن اتھارٹی
عدن ، ریاض(دنیا مانیٹرنگ)یمن میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی سمندر کے راستے صومالی لینڈ پہنچنے کے بعد صومالی دارالحکومت موغادیشو سے ایک طیارے کے ذریعے متحدہ عرب امارات پہنچ چکے ۔فوجی اتحاد نے جمعرات کو ایک بیان میں الزبیدی اور اُن کے ساتھیوں کے فرار کے حالات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ صومالی لینڈ سے موغادیشو جانے والا طیارہ اماراتی افسروں کی نگرانی میں تھا اور ابوظہبی کے ایک فوجی ہوائی اڈے پر لینڈنگ سے قبل ایک گھنٹے تک انتظار کرتا رہا۔بیان کے مطابق الزبیدی اور اُن کے ہمراہ افراد منگل اور بدھ کی درمیانی شب آدھی رات کے بعد عدن کی بندرگاہ سے فرار ہوئے ، شناختی نظام بند کر دیا اور بدھ کی دوپہر وہ بیربرا بندرگاہ پہنچے ۔
بعد ازاں انھوں نے امارات کے مشترکہ آپریشنز کمانڈر میجر جنرل عواد سعید الاحبابی سے رابطے کے بعد موغادیشو سے طیارہ لیا جبکہ خلیجِ عمان کے اوپر شناختی نظام دوبارہ بند کیا گیا اور ابو ظہبی کے الریف فوجی ہوائی اڈے پر لینڈنگ سے دس منٹ قبل اسے دوبارہ فعال کیا گیا۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ استعمال ہونے والا طیارہ ایلیوشن Il-76 تھا، جو عموماً تنازعات والے علاقوں (لیبیا، ایتھوپیا اور صومالیہ) کے درمیان پروازوں میں استعمال ہوتا ہے ۔یمن میں اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے تصدیق کی کہ اتحاد اُن افراد سے متعلق معلومات کی مسلسل پیروی کر رہا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عدن سے فرار سے قبل الزبیدی سے آخری بار ملے تھے ۔
ان میں احمد حامد لملس (عدن کے سابق گورنر) اور محسن الوالی (عدن میں سکیورٹی بیلٹس فورس کے کمانڈر) شامل ہیں، جن سے رابطہ منقطع ہے ۔ جنوبی عبوری کونسل کے ترجمان انور التمیمی نے جمعرات کو فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ الزبیدی اب بھی یمن کے اندر موجود ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے تبصرے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔ادھر صومالی امیگریشن اتھارٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ صومالی قومی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں کے غیر مجاز استعمال سے متعلق الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے ۔یاد رہے اس سے قبل یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل نے عیدروس الزبیدی پر غداری کا الزام لگایا تھا کیونکہ وہ مذاکرات کے لیے ریاض نہیں آئے تھے ۔صدارتی کونسل کے چھ دیگر ارکان نے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے سربراہ عیدروس الزبیدی پر الزام لگایا کہ وہ جمہوریہ کی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے کہا تھا کہ الزبیدی فرار ہو گئے تھے ۔ اس کے مطابق وہ نہ صرف یمنی شہر عدن سے ایس ٹی سی حکام کے ساتھ پرواز میں شامل نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے ایک بڑی فوجی قوت یمن کے صوبے الضالع کی طرف منتقل کی۔اتحاد نے کہا تھا کہ اس کے جواب میں یمن میں فضائی حملے کیے گئے ۔