امریکااور اتحادیوں کوحملے پر ایران کے ممکنہ ردعمل پرتشویش
ایران کے پاس قریبی ملکوں میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود قطر نے سعودیہ اور عمان کیساتھ ملکر ٹرمپ سے حملے نہ کرنے کی درخواست کی
پیرس، فرانس (اے ایف پی)خلیجی ریاستوں سے لے کر ترکی اور پاکستان تک ایران کے پڑوسی اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو نشانہ بنانے والی امریکی کارروائیوں کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں، جن میں پورے خطے میں آگ بھڑک اٹھنا اور مہاجرین کی نئی لہریں شامل ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق خلیج میں واشنگٹن کے اتحادیوں کی سب سے بڑی تشویش ایران کی جانب سے جوابی کارروائی ہے کیونکہ ان ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں جو ایرانی جوابی حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ جون میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے العدید پر میزائل داغے تھے ، جو خطے میں امریکا کا سب سے بڑا اڈا ہے ۔ایک سعودی عہدیدار نے بتایا کہ قطر نے سعودی عرب اور عمان کے ساتھ مل کر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے ایران پر حملے مو خر کرنے کی اپیل کی ۔ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے باعث کمزور ہونے کے باوجود ایران اب بھی ایک طاقتور خطرہ بنا ہوا ہے ۔ بحیرۂ روم فاؤنڈیشن فار سٹراٹیجک سٹڈیز (ایف ایم ای ایس)کے ڈائریکٹر آف سٹڈیز پیئر رازو نے کہاکہ خلیجی ریاستیں جانتی ہیں کہ وہ کمزور ہیں کیونکہ ایرانیوں کے پاس اتنی بنیادی درمیانی فاصلے تک مار کرنے والی میزائل کی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ان کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتے ہیں ۔
یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز (ای سی ایف آر)میں خلیج کی محقق سنزیا بیانکو نے کاکہناتھاکہ خلیج کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو یہ خدشہ بھی ہے کہ کسی بھی حملے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہو سکتی ہے جو تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے اور جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ گونول تول نے کہا کہ سرحدوں پر افراتفری سے مہاجرین ترکی کا رخ کرسکتے ہیں جس کا ترکی متحمل نہیں ہو سکتا ۔سابق سفارتکار اور سیاسی تجزیہ کار ملیحہ لودھی نے بتایاکہ ایران پر کسی بھی امریکی فوجی حملے کے پورے خطے کے لئے خطرناک اور عدم استحکام پیدا کرنے والے نتائج ہوں گے ۔باکو میں مقیم روسی تجزیہ کار نیکیتا اسماگِن نے اے ایف پی کو بتایاکہ آرمینیا اور آذربائیجان جیسے ممالک کو بھی اس بات کا خوف ہے کیونکہ یہ صورتِ حال پورے ملک کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے ۔