فوجی اے آئی :امریکا چین کا عالمی اعلامیے پر دستخط سے انکار
سپین میں اجلاس،85 ممالک کی شرکت،ایک تہائی ممالک نے اعلامیہ قبول کیا اعلامیے میں اے آئی استعمال پر انسانی نگرانی، باقاعدہ ٹیسٹنگ جیسے اصول شامل ایسے ضابطے فوجی صلاحیت ، اسٹریٹجک خودمختاری محدود کر سکتے :امریکا چین
میڈرڈ(رائٹرز)سپین میں فوجی مصنوعی ذہانت کے ذمہ دار استعمال سے متعلق ہونے والے عالمی اجلاس میں امریکا اور چین نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط سے انکار کر دیا۔ اجلاس میں 85 ممالک نے شرکت کی، جن میں سے تقریباً ایک تہائی ممالک نے فوجی اے آئی کے استعمال کے لیے 20 اصولوں پر مبنی اعلامیہ قبول کیا۔اعلامیے میں جنگی حالات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر انسانی نگرانی، واضح کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، باقاعدہ ٹیسٹنگ، شفافیت اور احتساب جیسے اصول شامل تھے ۔ تاہم امریکا اور چین کا مؤقف تھا کہ ایسے ضابطے ان کی فوجی صلاحیت اور اسٹریٹجک خودمختاری کو محدود کر سکتے ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اپنے دفاعی نظام میں ذمہ دار اے آئی کے اصول اپنائے ہوئے ہیں، جبکہ چین نے موقف اختیار کیا کہ مغربی ممالک ان اصولوں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو بڑی فوجی طاقتوں کی عدم شمولیت اس اعلامیے کی افادیت پر سوالیہ نشان ہے ۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق فوجی ا ے آئی کی تیز رفتار ترقی اگر واضح عالمی ضابطوں کے بغیر جاری رہی تو غلط فیصلوں، حادثاتی تصادم اور عالمی کشیدگی کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ اجلاس میں شریک کئی ممالک نے مطالبہ کیا کہ اس حساس ٹیکنالوجی پر عالمی اتفاق رائے ناگزیر ہے ۔