اسرائیل کا لبنانی سرحدی علاقے میں کیمیائی مواد کا چھڑکاؤ
غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس 19 فروری کو متوقع،اٹلی کا بھی شمولیت سے انکار اسرائیلی صدر کا دورہ سڈنی ،فلسطینی حامیوں کی احتجاج کی کال، پولیس تعینات
بیروت،واشنگٹن،سڈنی (اے ایف پی، دنیا مانیٹرنگ) اسرائیلی فوج نے لبنان کے جنوبی سرحدی علاقے میں کیمیائی مواد کا چھڑکاؤ کیا ہے ۔ واقعے کے بعد لبنانی حکومت نے بین الاقوامی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے ۔لبنانی وزیر ماحولیات نے مشتبہ کیمیائی مواد کے اسپرے کی تصدیق کی ہے ۔ وائٹ ہاؤس نے بورڈ آف پیس کے تحت عالمی رہنماؤں کا پہلا اجلاس 19 فروری کو کرانے پر غور شروع کر دیا۔ اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو کیلئے فنڈ ریزنگ کانفرنس بھی متوقع ہے ۔امریکی میڈیا کے مطابق اجلاس کی تیاری ابتدائی مراحل میں ہے ، تبدیلی بھی ممکن ہے ۔سڈنی میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دورے کے دوران پولیس نے بڑے پیمانے پر تعیناتی کا اعلان کیا ہے تاکہ تصادم کو روکا جا سکے۔
صدر ہرزوگ چار روزہ دورے میں14دسمبر کو بونڈائی بیچ پر ہونے والے حملے پر یہودی کمیونٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے ، انسانی حقوق کے گروپس اور پروفلسطینی کارکن احتجاج کی کال دے چکے ۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے اعلان کیا کہ وہ دو ہفتے میں واشنگٹن جائیں گے تاکہ امریکی صدر ٹرمپ کے \"بورڈ آف پیس\" کے پہلے اجلاس میں شرکت کریں۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہوں گے ، کیونکہ یہ اقدام آئینی طور پر ممکن نہیں۔ اٹلی کا آئین کسی ایک غیر ملکی رہنما کی قیادت میں قائم ادارے میں شمولیت کی اجازت نہیں دیتا ۔واضح رہے فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر امریکی اتحادیوں نے بھی اس فورم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔