20ہزار ڈالر کا ایرانی ڈرون گرانے کیلئے 40لاکھ ڈالر کا خرچہ

20ہزار ڈالر کا ایرانی ڈرون گرانے کیلئے 40لاکھ ڈالر کا خرچہ

20ہزار ڈالر کا ایرانی ڈرون گرانے کیلئے 40لاکھ ڈالر کا خرچہ ایرانی ڈرون امریکی دفاعی نظام کیلئے چیلنج،امریکی دفاعی لاگت میں زبردست اضافہ امریکی فوج پر سب سے مہلک حملہ بھی ڈرون کے ذریعے ہوا، 6فوجی ہلاک ہوئے ایرانی ڈرونز 2500 کلومیٹر تک پرواز کر سکتے ہیں، دفاعی نظام کیلئے تباہ کرنا مشکل امریکا نے مقابلے کیلئے یوکرین کی مدد سے کم لاگت نئے ڈرون’’ لوکس‘‘ تیار کرلئے

دبئی (دنیا مانیٹرنگ) اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ میں 2ہزارسے زائد جوابی ڈرون حملے کیے جن کے جواب میں امریکا اور اس کے خلیجی اتحادیوں نے 800 سے زائد مہنگے پیٹریاٹ میزائل داغے ۔ ہر میزائل کی قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر ہے ، جس سے خطے میں امریکی دفاعی لاگت میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ ایرانی شاہد ڈرونز جن کی لاگت صرف 20 سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان ہے امریکی دفاعی نظام کیلئے چیلنج بن گئے ۔متحدہ عرب امارات کے حکام کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد ایرانی ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں، 71 نے دفاعی رکاوٹ عبور کی۔ یہ ڈرون خلیج فارس میں توانائی کے اہم مقامات، جیسے سعودی ریفائنری راس تنورہ اور قطر کی ایل این جی تنصیب کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔ امریکی افواج پر سب سے مہلک حملہ بھی ایک ڈرون کے ذریعے ہوا، جس میں چھ فوجی ہلاک ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اب امریکا نے یوکرین سے تجربہ حاصل کرتے ہوئے کم لاگت والے نئے ڈرون ‘لوکس’ تیار کیے ہیں جن کی قیمت تقریباً 35 ہزار ڈالر ہے ۔ ان کا مقصد ایرانی ڈرونز کو مو ٔ ثر انداز میں ناکارہ بنانا ہے ۔ ایرانی ڈرونز 2500 کلومیٹر تک پرواز کر سکتے ہیں اور سیٹلائٹ نیویگیشن کے ذریعے ہدف تک پہنچتے ہیں، جس سے دفاعی نظاموں کے لیے انھیں تباہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ماہرین کے مطابق ایران کی حکمت عملی امریکی اور اتحادی فوجیوں پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور دفاعی ذخائر استعمال کروا کر خطے میں خوف و عدم تحفظ پیدا کرنا ہے ۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک اور توانائی کے شعبے پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی مسلسل کم لاگت اور مؤ ثر دفاعی حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں