مشہور ناول’’دا تھری مسکیٹیرز‘‘ کے ہیرو فرانسیسی سپاہی کی ممکنہ باقیات دریافت

مشہور ناول’’دا تھری مسکیٹیرز‘‘  کے ہیرو فرانسیسی سپاہی  کی ممکنہ باقیات دریافت

ایمسٹرڈیم (اے ایف پی)نیدرلینڈز کے شہر ماستریخت کے ایک چرچ سے ایسا ڈھانچہ دریافت ہوا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ فرانسیسی سپاہی چارلس ڈی باتز ڈی کاسٹلمور (ڈی آرٹگنن) کا ہو سکتا ہے ۔۔

، جو مشہور ناول ’’ دا تھری مسکیٹیرز‘‘ کے کردار کی بنیاد بنے تھے ۔یہ ڈھانچہ فروری میں چرچ کے فرش کے جزوی طور پر گرنے کے بعد مرمت کے دوران دریافت ہوا۔ مذکورہ چرچ کی تاریخ کم از کم 13ویں صدی تک جاتی ہے ۔ڈی آرٹگنن، جو فرانس کے بادشاہوں لوئس سیزدہم اور لوئس چہاردہم کے مشہور مسکیٹیر تھے ، نے اپنی زندگی فرانسیسی شاہی خدمت میں گزاری۔ وہ 19ویں صدی میں فرانسیسی مصنف الیگزینڈر ڈوما کے ناول کے ہیرو کے طور پر دنیا بھر میں معروف ہوئے ۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق ڈی آرٹگنن 1673 میں ماستریخت کے محاصرے کے دوران مارے گئے تھے اور تب سے ان کی تدفین کی جگہ ایک معمہ بنی ہوئی تھی۔ابتدائی کھدائی کے دوران ڈھانچے کے قریب ایک فرانسیسی سکہ بھی ملا۔ ماہرین کے مطابق قبر کی جگہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ کسی اہم شخصیت کی ہو سکتی ہے ، کیونکہ اس دور میں قربان گاہ کے نیچے صرف شاہی یا نمایاں افراد کو دفن کیا جاتا تھا۔ڈھانچے کو چرچ سے نکال کر نیدرلینڈز کے شہر ڈیونٹر میں واقع ایک آثارِ قدیمہ کے ادارے میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔ 13 مارچ کو اس کا ڈی این اے نمونہ لیا گیا، جسے اس وقت میونخ کی ایک لیبارٹری میں جانچا جا رہا ہے ۔ماہرِ آثار قدیمہ وِم ڈائک مین گزشتہ 28 برس سے ڈی آرٹگنن کی باقیات کی تلاش میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بطور سائنسدان محتاط ہیں، لیکن انہیں اس دریافت سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں