بھارت :گیس کی قلت ،مٹی کے چولہوں کی طرف واپسی

بھارت :گیس کی قلت ،مٹی کے چولہوں کی طرف واپسی

ایران جنگ کی وجہ سے دہلی میں ایل پی جی مہنگی، لکڑی کی فروخت میں اضافہ غربت اور مہنگائی سے متاثرہ شہری بحران کا شکار،روزمرہ زندگی اور تعلیم متاثر

نئی دہلی(دنیا مانیٹرنگ)جنگ کی وجہ سے ایران سے ہزاروں کلومیٹر دور بھارت میں بھی لوگوں کا کچن متاثر ہو رہا ہے ۔ دارالحکومت دہلی کی کچی بستیوں میں بھی لوگ دوبارہ مٹی کے چولہوں پر لکڑی سے کھانا پکانے کے لیے مجبور ہو رہے ہیں۔بہار کے ضلع کھگڑیا  کی رنجو دیوی گزشتہ 10 سال سے دہلی کے روہنی علاقے کی ایک کچی بستی میں رہ رہی ہیں۔ وہ گھریلو ملازمہ ہیں جبکہ ان کے شوہر منوہر یومیہ مزدور۔ دونوں مل کر ماہانہ تقریباً 15 ہزار روپے تک کما لیتے ہیں۔ رنجو دیوی کے گھر کے باہر ایک کونے میں مٹی کا چولہا نظر آتا ہے ۔یہ چولہا انہوں نے حال ہی میں بنایا ہے ، یا یوں کہیں کہ بنانے پر مجبور ہوئیں۔

وجہ بتاتے ہوئے رنجو دیوی کہتی ہیں کہ پچھلے ایک مہینے سے ان جیسے کئی خاندان گیس سلنڈر نہیں بھروا پا رہے ۔ ان دنوں وہ لکڑی جلا کر کھانا بنا رہی ہیں۔دہلی کی کچی بستیوں میں تقریباً 50 لاکھ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔یہاں 78 فیصد سے زیادہ خاندانوں کی ماہانہ آمدنی 20ہزارروپے سے کم ہے ۔ ایسے میں گیس کی قیمت بڑھنے اور سلنڈرز کی کمی نے بہت سے لوگوں کو مٹی کے چولہوں پر کھانا پکانے پر مجبور کر دیا ہے ۔ رنجو دیوی کہتی ہیں کہ چار افراد کے لیے ایک وقت کا کھانا بنانے میں کم از کم ڈیڑھ کلو لکڑی لگتی ہے۔

پہلے لکڑی 10 سے 12 روپے فی کلوگرام تک میں مل جاتی تھی، جو اب 20 روپے فی کلوگرام ہو گئی ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ حالات کووڈ جیسے ہو سکتے ہیں اور شاید لاک ڈاؤن بھی لگ جائے ،ایک بچے کے سکول آنے جانے پر روزانہ تقریباً 40 روپے خرچ ہوتے ہیں۔ خرچ کم کرنے کے لیے وہ اب اپنے صرف دو بچوں کو سکول بھیج پا رہی ہیں جبکہ سب سے چھوٹے بچے کی تعلیم فی الحال رک گئی ہے ۔ وہ بتاتی ہیں کہ صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ آٹا، چاول اور تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ایسے میں ایک بچے کو سکول نہ بھیج کر پیسے بچانا ہی انہیں بہتر لگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں