دنیا میں تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران
خلیج میں توانائی تنصیبات کو نقصان ،مرمت پر اربوں ڈالر لاگت ،طویل وقت طلب
واشنگٹن (مانیٹرنگ سیل )بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے اور دنیا تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے ۔توانائی ماہرین کے مطابق بحران کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ نہ تو فوری جنگ بندی اور نہ ہی کسی محدود امن معاہدے سے عالمی توانائی نظام کو جلد پہلے جیسے دور میں واپس لایا جا سکتا ہے ، جب تیل اور گیس نسبتاً سستی اور وافر مقدار میں دستیاب تھے ۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کے راستے تیل کی ترسیل میں طویل رکاوٹ کے باعث عالمی منڈی میں حقیقی قلت اب واضح ہونا شروع ہو گئی ہے ۔ ماہرین کے مطابق ٹینکرز کو اپنی منزل تک پہنچنے میں ایک سے ڈیڑھ ماہ لگتا ہے ، اور جنگ کو اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اب سپلائی چین کے اثرات پوری شدت سے سامنے آ رہے ہیں۔آئی ای اے کے مطابق اپریل میں تیل کی قلت مارچ سے زیادہ سنگین ہو سکتی ہے ۔اگرچہ ہرمز کھل بھی جائے تو سپلائی مکمل طور پر معمول پر آنے میں ایک سے ڈیڑھ ماہ یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے ، جبکہ بعض اثرات کئی مہینوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔توانائی ماہرین کے مطابق قدرتی گیس کا بحران تیل کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے ۔قطر کی عالمی گیس مارکیٹ میں حصہ تقریباً 17 فیصد ہے ۔سپلائی چین میں رکاوٹوں نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے ،متبادل سپلائی فوری طور پر ممکن نہیں۔ماہرین کے مطابق ایل این جی کی سپلائی دوبارہ مستحکم ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ جنگ کے دوران خطے میں تیل و گیس کی 40 سے زائد اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے ۔بعض تنصیبات کی بحالی میں 3 سے 5 سال تک لگ سکتے ہیں۔متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق میں ریفائنریز اور فیلڈز متاثر ہوئے ۔ماہرین کے مطابق مرمت پر اربوں ڈالر خرچ ہوں گے اور یہ سرمایہ اب نئی پیداوار کے بجائے بحالی پر لگ رہا ہے ۔فاتح بیرول نے کہا کہ دنیا اس بحران کی شدت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکی۔ان کے مطابق ہم تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران میں داخل ہو رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ بحران کے اثرات صرف ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ اور دیگر خطوں تک بھی پھیل سکتے ہیں، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات ہوں گے ۔