بجلی کی لوڈشیڈنگ شروع،تقریبا ڈیڑھ روپے فی یونٹ مہنگی کرنیکا فیصلہ،گیس کی بھی قلت
شام 5 سے رات 1بجے تک سوا 2گھنٹے لوڈشیڈنگ ،بروقت اقدامات نہ کرتے تو بجلی 5 سے 6 روپے یونٹ مہنگی ہوجاتی :ترجمان پاور ڈویژن ، اسلام آباد سمیت پنجاب میں بدترین بندش ایل این جی کی سپلائی رک گئی، گیس کی قلت ، بندش کا دورانیہ 20گھنٹے ہوگیا، راولپنڈی ،لاہور،شیخوپورہ، سرگودھا،فیصل آباد ،گجرات،اوکاڑہ ، قصور اور دیگر شہروں میں شہری پریشانی کاشکار
اسلام آباد ،لاہور،کوئٹہ(نامہ نگار، اپنے کامرس رپورٹر سے ، دنیا نیوز)مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پاکستان میں توانائی بحران شدت اختیار کر گیا ، ملک بھر میں بجلی کا شاٹ فال بڑھ گیا،بجلی طلب میں اضافے کے باعث پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے لوڈشیڈنگ شروع کر دی گئی ، دوسری طرف بجلی تقریبا ً ڈیڑھ روپے مہنگی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ،گیس کی بد ترین لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے ، ترجمان پاور ڈویژن نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کو پیک آورز میں کھپت میں اضافے کا چیلنج درپیش ہے ، شام 5 سے رات 1 بجے تک روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی،ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈسکوز کو بجلی بند کرنے کے اوقات صارفین سے شیئر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر کمرشل مارکیٹس کی بروقت بندش سے بجلی کی طلب کم کی جاسکتی ہے ، ترجمان نے کہا کہ مہنگے ایندھن پر انحصار سے بجلی کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے ، وزیرِ اعظم کی ہدایت پر صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر 80 ایم ایم سی ایف ایف ڈی مقامی گیس پاور پلانٹس کو مہیا کر دی گئی، اس سے بجلی کی قیمت میں 80 پیسے فی یونٹ اضافے اور اضافی لوڈ مینجمنٹ کو روک دیا گیا، ترجمان کے مطابق فرنس آئل کا استعمال محدود کرنے کے باوجود تقریباً 1.5 روپے فی یونٹ اضافے کیلئے تیار رہنا ہوگا، بروقت اقدامات نہ کئے جاتے تو قیمت میں 5 سے 6 روپے یونٹ اضافہ ہو سکتا تھا،پاور ڈویژن نے پیک آورز ریلیف سٹرٹیجی کے حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ حیسکو اور کے الیکٹرک میں پیک آورز لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی،لیسکو ریجن کے مختلف علاقوں میں روزانہ 2سے 3گھنٹے تک بجلی غائب رہنے لگی ہے ،خصوصاً شام اور رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ دن کے وقت سولر سسٹمز کے باعث کسی حد تک بجلی کی طلب پوری ہو رہی ہے تاہم مجموعی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے ۔اعداد و شمار کے مطابق لیسکو کو اس وقت تقریباً 2000میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ طلب 2990میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے ، شارٹ فال تقریباً 1000میگاواٹ ہو گیا ہے ۔
اسلام آباد اور پنجاب کے شہری علاقوں میں 2سے 3گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 4سے 5گھنٹے تک بجلی کی بندش رپورٹ کی گئی ہے ، فضائیہ ہاؤسنگ، اڈا پلاٹ، جوہر ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، گلشن راوی، سمن آباد، ہربنس پورہ اور کوٹ خواجہ سعید سمیت کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بجلی کی 14 گھنٹے طویل لوڈشیڈنگ عوام کے لیے سنگین انسانی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ دوسری طرف گیس کی بد ترین لوڈشیڈنگ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں ، گھریلو امور اور کاروباری سر گرمیاں بری طرح متاثر ہونے لگیں ۔ ذرائع کے مطابق سسٹم میں گیس کی قلت کے باعث راولپنڈی ، لاہور سمیت پنجاب بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ کر 20گھنٹے تک جا پہنچا ، سوئی ناردرن گیس کمپنی کا شارٹ فال 1000 ایم ایم سی ایف ڈی سے تجاوز کرگیا، ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے باعث ایل این جی کی سپلائی رک گئی ،ایل این جی شامل ہونے کے بعد گھریلو، کمرشل اور انڈسٹریل ضروریات پوری ہوتی ہیں، ایل این جی کی فراہمی رکنے کے باعث شارٹ فال میں مزید اضافہ ہوا، لاہور میں صرف کھانا بنانے کے اوقات میں گیس فراہم جارہی ہے ، گنجان آباد اور ٹیل کے علاقوں میں کھانا بنانے کے اوقات میں بھی کم پریشر کا سامنا ہے ، پنجاب کے دیگر شہروں میں شہریوں کو کھانا بنانے کے اوقاتِ کار میں بھی پریشر کے ساتھ گیس دستیاب نہیں،شیخوپورہ، ننکانہ،سرگودھا،فیصل آباد، ڈی جی خان، بہاولپور،گوجرہ،گجرات،اوکاڑہ ، قصور سمیت دیگر شہروں میں گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ۔