پاکستان میں دو بارہ مذاکرات،2روز اہم:فیلڈ مارشل عاصم منیر شاندار کام کررہے،ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے کسی ایسے ملک میں کیوں جائیں جس کا اس معاملے سے تعلق نہیں:ٹرمپ
رپورٹر کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے پہلے کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا امکان نہیں ، پھر دوبارہ فون کر کے کہا اب یہ زیادہ ممکن ہے پکی تاریخ طے نہیں کی گئی، تاہم وفود نے جمعہ سے اتوار تک کے دن خالی رکھے ہوئے ہیں:ایرانی ذرائع ، دونوں ممالک کے وفود کو اسلام آباد واپس آنے کی دعوت دیدی گئی
اسلام آباد ( نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ‘اگلے دو دنوں میں’ ہو سکتے ہیں۔انھوں نے اخبار کو بتایا کہ ‘اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم وہاں (پاکستان) جا سکتے ہیں۔’ٹرمپ نے امریکی اخبار نیویارک پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے حوالے سے ‘بہت اچھا کام’ کر رہے ہیں۔ کہ ‘وہ شاندار شخصیت کے مالک ہیں اور اسی لیے زیادہ امکان ہے کہ ہم دوبارہ وہاں جائیں۔’ہم ایسے ملک میں کیوں جائیں جس کا اس معاملے سے تعلق نہیں ۔ اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایک رپورٹر کے ساتھ فون انٹرویو میں کہا کہ آپ کو واقعی وہاں رہنا چاہیے ، کیونکہ اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے ، اور ہم وہاں جانے کے زیادہ خواہشمند ہیں، ۔ابتدائی کال میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ مذاکرات کیلئے دوبارہ پاکستان جانے کا امکان نہیں، تاہم نیویارک پوسٹ کے مطابق چند منٹ بعد انہوں نے دوبارہ فون کر کے کہا کہ اب یہ زیادہ ممکن ہے کہ مذاکرات کیلئے اسلام آباد واپس جائیں، کیونکہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔رائٹرز کے مطابق پاکستانی اور ایرانی حکام نے منگل کے روز بتایا کہ امریکہ اور ایران کے مذاکراتی وفود اس ہفتے کے آخر میں دوبارہ پاکستان آ سکتے ہیں تاکہ خلیج میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے ، یہ پیش رفت ابتدائی امن مذاکرات کے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے چند دن بعد سامنے آئی ہے ۔
امریکی حکام کی جانب سے ان منصوبوں کی فوری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی، جن کے بارے میں ایرانی اور پاکستانی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ایک ذریعے نے ، جو مذاکرات میں شامل رہا ہے ، بتایا کہ ایک تجویز واشنگٹن اور تہران کو بھیجی گئی ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے وفود کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اسلام آباد واپس آنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ابھی تک کسی حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا، تاہم دونوں ممالک اس ہفتے کے اختتام تک، یعنی ممکنہ طور پر جلد ہی، واپس آ سکتے ہیں۔اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے کہا:"مذاکرات کے آئندہ دور اس ہفتے کے آخر میں یا اگلے ہفتے کے آغاز میں کسی وقت ہو سکتے ہیں، لیکن فی الحال کچھ بھی حتمی نہیں ہے ۔"اس سے قبل ایک سینئر ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا:"کوئی پکی تاریخ طے نہیں کی گئی، تاہم وفود نے جمعہ سے اتوار تک کے دن خالی رکھے ہوئے ہیں۔"ایک سینئر پاکستانی اہلکار نے کہا کہ اسلام آباد نے ایران سے رابطہ کیا تھا، "اور ہمیں مثبت جواب ملا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیار ہیں۔"اس اہلکار اور ایک دوسرے پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ اسلام آباد دونوں فریقوں کے ساتھ اگلے دور کے وقت کے حوالے سے رابطے میں ہے ، اور امکان ہے کہ یہ ملاقات آنے والے ویک اینڈ پر ہو گی۔