ٹرمپ کے بار بار حملے ،بھارتی رسمی ناراضگی،تنازع سے گریز

ٹرمپ کے بار بار حملے ،بھارتی رسمی ناراضگی،تنازع سے گریز

صدر ٹرمپ نے ووٹر ز کی توجہ کیلئے بھارت کو جہنم جیسی جگہ کہا :تجزیہ کار بھارت نے آزاد تجارتی معاہدے پر گفتگو جاری رکھنے کیلئے تحمل کا مظاہرہ کیا

نئی دہلی(دنیا مانیٹرنگ)امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک ایسا تبصرہ شیئر کیا جس میں بھارت کو ’’جہنم جیسی جگہ‘‘ کہا گیا تھا۔درحقیقت یہ تبصرہ امریکا میں دائیں بازو کے ریڈیو میزبان مائیکل سیویج نے اپنے ریڈیو ٹاک شو کی ایک قسط میں کیا تھا۔ ٹرمپ نے جمعرات کو اسے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بغیر کوئی اضافی تبصرہ کیے شیئر کر دیا تھا۔بھارت نے ٹرمپ کے تبصرے پر جارحانہ جواب دینے کے بجائے رسمی ناراضی کا اظہار کیا ہے ۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت نے امریکی صدر کے جارحانہ بیان پر نپا تُلا، سنجیدہ اور متوازن ردِعمل دیا ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت اس وقت

 امریکا کے ساتھ کسی براہِ راست تنازع میں نہیں پڑنا چاہتا۔ کچھ تجزیہ کار بھارت کے اس ردِعمل کو امریکا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر جاری بات چیت سے بھی جوڑ رہے ہیں۔بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر ہرش پنت کہتے ہیں اس وقت بھارت کی ضرورت امریکا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے ۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اب تک اٹکا ہوا ہے ۔ ٹرمپ کسی بھی وقت کچھ بھی کہہ دیتے ہیں۔ ان پر ردِعمل دیتے ہوئے بھارت اپنی ترجیحات سے بھٹکنا نہیں چاہتا۔صدر ٹرمپ کے بیانات میں اتار چڑھاؤ نظر آتا ہے ۔ تجزیہ کار ان کے تازہ تبصرے کو امریکا کی داخلی سیاست سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے شعبئہ امریکی مطالعات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اوما پرشوتمَن کہتی ہیں کہ امریکا میں مڈ ٹرم انتخابات ہونے والے ہیں۔ تارکینِ وطن ٹرمپ کے حامیوں کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ان کے اس بیان کا ہدف انڈیا کم اور گھریلو ووٹر زیادہ تھے ۔ ان کی ریٹنگ گر رہی ہے ، اس طرح کے بیانات اور سرخیوں کے ذریعے وہ دوبارہ اپنے حامیوں کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں