اسرائیلی جہاز آبنائے ہرمز سے کبھی نہیں گزر سکیں گے، ایران نیا قانون بنائے گا
دشمن ممالک کے جہازوں کو گزرنے کیلئے جنگی ہرجانہ اداکرنا ہوگا،دیگر کو پیشگی اجازت لیناہوگی:حمیدرضا،ایرانی نائب سپیکر آبنائے ہرمز جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے زیادہ اہم :رضا رضائی ،ایک بات یقینی ہے کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے :علی نیکزاد
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں) ایران کی پارلیمنٹ کے نائب سپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے کہا ہے کہ ایک نیا قانون تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت اسرائیلی جہازوں کو کسی بھی وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔قطری میڈیا کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کے نائب سپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجوزہ بل کے تحت دشمن ممالک کے جہازوں کو اس وقت تک آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک وہ جنگی ہرجانہ ادا نہ کریں،دیگر ممالک کے جہاز ایران سے پیشگی اجازت اور منظوری حاصل کرنے کے بعد گزر سکیں گے ۔ایرانی پارلیمان کے رکن علی نیکزاد کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی پوزیشن دوبارہ کبھی پہلی جیسی نہیں ہوگی، ایک بات یقینی ہے کہ ہم آبنائے ہرمز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔میڈیا سے گفتگو میں علی نیکزاد نے کہا ہرمز صوبے کے حکام اور وہاں تعینات فورسز کو ٹاسک دیا جاچکا ہے ،
امریکا ہرمز کھلوانے میں ناکام رہا، ناکہ بندی بھی کامیاب نہیں ہوگی۔ اسرائیل کے بحری جہاز کبھی آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکیں گے ، امریکا اور اس کے اتحادی جارح ممالک کو بھی پابندیوں کا سامنا ہوگا، باقی ممالک کے جہاز ایران کی اجازت سے آبنائے ہرمز سے گزریں گے ۔ ایرانی شوریٰ کونسل کی تعمیرِ نو کمیٹی کے سربراہ محمد رضا رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام و انصرام جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے ۔ایران کے سرکاری چینل العالم ٹی وی کے مطابق رضائی نے کہا آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا ایرانی عوام کا مطالبہ ہے اور ہم اس حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ۔ آبنائے ہرمز کے انتظام کے منصوبے کے تحت جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس کا 30 فیصد فوجی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔