ایران مخالف قرارداد کو روس، چین ویٹو کا سامنا
اقوام متحدہ(دنیا مانیٹرنگ،اے ایف پی) امریکا نے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی ایک نئی قرارداد کی حمایت کریں جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں حملے اور بارودی سرنگیں بچھانے کی کارروائیاں بند کرے۔۔۔
تاہم سفارتکاروں کے مطابق اس تجویز کو چین اور روس کی جانب سے ویٹو کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، جس سے ایران تنازع پر اقوامِ متحدہ میں ایک اور بڑا سفارتی ٹکراؤ سامنے آنے کا امکان ہے ۔یہ قرارداد بحرین کی قیادت میں پیش کی گئی اور اسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی حمایت حاصل ہے ۔ اس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس اہم بحری گزرگاہ میں حملے بند کرے اور ممکنہ طور پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے مقامات ظاہر کرے ۔اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے خلیجی نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جو ممالک اس قرارداد کی مخالفت کریں گے وہ ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کر رہے ہوں گے ۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس ووٹنگ کو اقوامِ متحدہ کی بحری سلامتی کے حوالے سے ساکھ کا امتحان قرار دیا۔پسِ پردہ مذاکرات سے واقف سفارتکاروں کے مطابق چین اور روس نے اس مسودے کی زبان پر شدید اعتراضات کیے ہیں اور اگر اسے ووٹنگ کیلئے پیش کیا گیا تو وہ اسے ویٹو کر سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بیجنگ نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے حوالے پر تشویش ظاہر کی ہے ، جو ممکنہ طور پر سخت اقدامات کی راہ ہموار کر سکتا ہے ، جبکہ ماسکو نے مسودے میں بڑی تبدیلیوں یا اس کی مکمل واپسی کا مطالبہ کیا ہے ۔