بھارت :بڑے جانوروں کی قربانی پر پابندی،مویشی منڈیاں ویران

بھارت :بڑے جانوروں کی قربانی  پر پابندی،مویشی منڈیاں ویران

کولکتہ(دنیا مانیٹرنگ)مغربی بنگال میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر بڑے جانوروں کی قربانی سے متعلق نئی پابندیوں نے (صفحہ5بقیہ نمبر15) مویشی منڈیوں کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے ۔

 کولکتہ کے نواحی علاقوں میں رہنے والے 66 سالہ گھوش بابو کہتے ہیں کہ اگر ان کی گائیں نہ بکی تو ان کے پاس کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہیں بچے گا۔ وہ یومیہ چار سو روپے کماتے ہیں اور حکومت سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ اسی طرح سنگیتا گھوش کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پانچ گائیں ہیں مگر کوئی خریدار نہیں مل رہا۔ ہر گائے کی قیمت تقریباً دو لاکھ روپے ہے لیکن اس بار مسلمان خریداروں نے گائے خریدنے سے گریز کیا ہے جس سے کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے ۔تاجروں کے مطابق اس صورتحال سے سب سے زیادہ نقصان دیہی معیشت کو پہنچ رہا ہے ۔ کنہائی گھوش جیسے مویشی تاجر کہتے ہیں کہ یہ کاروبار زیادہ تر ہندو برادری کرتی ہے اور قربانی کے لیے گائے مسلمانوں کو فروخت کی جاتی ہے ، لیکن اب خریدار نہ ہونے سے انہیں بھاری مالی خسارہ ہو رہا ہے ۔ ان کے مطابق ان کے پاس 40 گائیں ہیں جنہیں فروخت کر کے وہ قرض ادا کرنا چاہتے تھے مگر اب صورتحال انتہائی مشکل ہو گئی ہے ۔ریاستی حکومت نے 1950 کے قانون اور 2018 کے ہائی کورٹ فیصلے پر عمل کرتے ہوئے 13 مئی کو نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت 14 سال سے کم عمر جانوروں کے ذبح پر پابندی اور ویٹرنری سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کسی بھی جانور کو اس وقت تک ذبح نہیں کیا جا سکتا جب تک متعلقہ حکام اسے فٹ قرار نہ دیں۔اس فیصلے کے بعد مویشی منڈیوں میں خریدار نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ تاجروں اور مقامی افراد نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ پابندیوں پر نظرثانی کرے تاکہ دیہی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے ۔دوسری جانب کئی ریاستوں میں عید کی نماز سڑکوں پر پڑھنے سے روکا گیا ہے ۔اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے سڑکوں پر مذہبی سرگرمیاں بند رکھنے کی تنبیہ کی ہے ۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں