بھارت کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا قبول نہیں:اسحاق ڈار

بھارت کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا قبول نہیں:اسحاق ڈار

سندھ طاس معاہدے کی معطلی تسلیم نہیں کرتے ، مسئلہ کشمیر دہائیوں سے حل طلب پاکستان دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے ، سلامتی کونسل میں خطاب

نیویارک (دنیا نیوز، اے پی پی)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ہرگز قبول نہیں،اقوام متحدہ کی  سلامتی کونسل میں عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے سے متعلق مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو ہم تسلیم نہیں کرتے ،مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کئی دہائیوں سے حل طلب ہے ، عالمی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری یقینی ہونی چاہیے ، اقوام متحدہ نے شہریوں کو مساوات اور خودارادیت کے حقوق د ئیے ہیں،پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور اصولوں پر کاربند ہے اوردیرینہ تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے ، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق امن کا فروغ اور تنازعات کا حل ریاستوں کی ذمہ داری ہے ،نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا، پاکستان نے کشیدگی میں کمی کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں،امن مذاکرات کی حمایت پر دوست ممالک کے شکر گزار ہیں،دریں اثنا، اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران صدر شی جن پنگ سے ملاقات کو اپنے لیے باعثِ اعزاز قرار دیا۔سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اور آزمودہ دوستی کے حوالے سے گرمجوش جذبات کا تبادلہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری دوستی باہمی احترام، مشترکہ خواہشات، اور علاقائی امن، روابط اور اقتصادی ترقی کے لیے غیر متزلزل عزم کی بنیاد پر مسلسل مضبوط ہو رہی ہے ۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں