غزہ جنگ بندی آگے بڑھانے کیلئے حماس وفد کل مصر پہنچے گا
اگر اسرائیل نئی رکاوٹیں کھڑی نہ کرے تو پیش رفت ممکن ہے :حماس اسرائیلی اٹارنی جنرل کا نیتن یاہو پر جمہوری ادارے کمزور کرنیکا الزام ملکی عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی خطرے میں پڑ سکتی:گالی بہار
غزہ سٹی،یرو شلم (اے ایف پی)حماس کا ایک اعلیٰ سطح وفد کل بدھ کو مصر میں ثالثی کرنے والے ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا، جس میں غزہ میں جاری نازک جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ حماس حکام کے مطابق مذاکرات میں قطری اور ترک حکام بھی شریک ہوں گے ۔ تنظیم کے چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ وفد کی قیادت کریں گے ۔ حماس نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر اسرائیل نئی رکاوٹیں کھڑی نہ کرے تو پیش رفت ممکن ہے ۔ دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی کے باوجود تشدد جاری ہے اور فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔اسرائیل کی اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا نے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ وکلا تنظیم کی ایک کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمانی مدت کے اختتام سے قبل جمہوری اداروں کو محدود کرنے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے ۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر اور عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت سے متعلق مجوزہ قوانین پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔