جی سیون :کیمرے کے پیچھے عالمی رہنماؤں کی چٹکلے بازی
کافی چاہیے :اطالوی وزیراعظم،اور سگریٹ ؟ جرمن چانسلر، چھوڑ دئیے :میلونی اماراتی صدرکوفلم میں کاسٹ کر سکتا ہوں ،امیر ہوں تو دھیمی آواز بھی خوب:ٹرمپ فریڈرک میرز کا ٹرمپ کو 47 ویں صدر کی مناسبت سے فٹبال کی 47نمبر جرسی کا تحفہ
پیرس (اے ایف پی)فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس جہاں سنجیدہ عالمی سیاست اور خارجہ امور کا مرکز رہا، وہیں اس دوران پسِ چلمن عالمی رہنماؤں کے غیر رسمی رویوں، دلچسپ جملوں اور نوک جھونک کے کئی یادگار لمحات بھی سامنے آئے ۔تین روزہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چھائے رہے ، تاہم دیگر رہنماؤں نے بھی محفل کو خوب زعفران زار کیا۔ اس اجلاس کے سب سے دلچسپ اور یادگار لمحات سامنے آئے ۔اجلاس کے ایک صبح کے سیشن میں داخل ہوتے ہوئے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کا مائیک کھلا رہ گیا، جس میں وہ کہتی سنی گئیں، "مجھے کافی پینی ہے ۔"جرمن چانسلر فریڈرک میرز، جو میلونی کی عادات سے واقف لگتے تھے ، نے فوراً لقمہ دیا، "اور ایک سگریٹ...؟"میلونی نے جواب دیا، "نہیں، میں نے چھوڑ دی ہے ۔"
جس پر یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے خوش ہو کر "براوو" کہا۔ میلونی نے بتایا کہ انہوں نے ایک ماہ قبل ہی سگریٹ نوشی چھوڑی ہے ۔ اس گفتگو کے دوران برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کے پوچھنے پر یورپی کونسل کے سربراہ انتونیو کوسٹا نے بتایا کہ انہوں نے 21 سال قبل 2005 میں سگریٹ چھوڑی تھی اور پھر کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ ملاقات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو صرف جیو پولیٹکس تک محدود نہ رہی۔ انہوں نے اماراتی صدر کی نرم گوئی اور شخصیت کی تعریف کرتے ہوئے ایک اماراتی صحافی سے کہا:"یہ اتنے وبصورت انسان ہیں کہ میں انہیں ابھی کسی فلم میں ہیرو کاسٹ کر سکتا ہوں۔ ان کا انداز کتنا پیارا ہے ، جبکہ میرے ملک کا میڈیا کتنا ظالم ہے ۔
"جب اماراتی صدر نے انتہائی دھیمی اور پروقار آواز میں اپنی بات مکمل کی، تو ٹرمپ نے جملہ کسا:"جب آپ اتنے امیر ہوں، تو آپ اتنی دھیمی آواز میں بات کر سکتے ہیں۔ میں تو بس یہ سوچ رہا تھا کہ کیا کسی کو کچھ سنائی بھی دیا؟ آپ کو آواز پر بالکل زور نہیں دینا پڑتا، یہ کمال ہیں۔"جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ اور فٹبال ورلڈ کپ کے موقع پر انہیں جرمنی کی نیشنل فٹبال ٹیم کی ایک جرسی تحفے میں دی اور معنی خیز انداز میں کہا، "آخر کار ہم سب ایک ہی ٹیم میں ہیں۔"اس جرسی کی پشت پر 'ٹرمپ'کے نام کے ساتھ نمبر 47 لکھا ہوا تھا، جو ان کے امریکہ کے 47 ویں صدر ہونے کی علامت ہے ۔ ٹرمپ نے مسکرا کر یہ تحفہ قبول کیا جبکہ برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر خاموشی سے دیکھتے رہ گئے (شاید وہ سوچ رہے تھے کہ کاش وہ بھی انگلینڈ کی جرسی لے آتے )۔ یاد رہے کہ ٹرمپ کے دادا جرمنی میں پیدا ہوئے تھے ، اس لیے امریکی ٹیم کے باہر ہونے پر وہ جرمنی کو سپورٹ کر سکتے ہیں ۔