افغانستان :سمارٹ فونز کا استعمال بند ، ملازمین پریشان
سرکاری محکموں کے ملازمین پر دفاتر میں فونز کا استعمال سختی سے ممنوع قرار فیصلہ انتہائی دل شکن:سکول ٹیچر، کام تقریباً ناممکن ہو جائے گا:ملازمین
کابل (اے ایف پی)افغانستان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری ملازمین نے اپنے سمارٹ فونز بند کرنا شروع کر دئیے ہیں اس نئے فیصلے کے تحت تمام فوجی اور سویلین محکموں کے ملازمین پر دفاتر کے اندر سمارٹ فونز کا استعمال سختی سے ممنوع قرار دے دیا گیا ہے ۔اس فیصلے پر ملازمین نے شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔ کئی ملازمین کا کہنا ہے کہ اب سمارٹ فونز کے بغیر ان کا کام تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ ٹرانسپورٹ کے ایک ملازم نے بتایا کہ وہ سامان کی نقل و حرکت اور معلومات شیئر کرنے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے تھے ، جو اب معطل ہو جائے گا۔ ایک سکول ٹیچر نے اس فیصلے کو 'انتہائی دل شکن' قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدھ کو ان کا فون ضبط کر کے وارننگ کے ساتھ واپس کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہوم ورک اور طلبا کے مسائل حل کرنے کے لیے واٹس ایپ گروپس کا استعمال کرتے تھے ۔ محکمہ تعلیم کے ایک اور ملازم نے بتایا کہ وہ سرکاری رابطوں کے لیے سمارٹ فون میں موجود اے آئی ٹولز کی مدد سے دری اور پشتو زبان کا ترجمہ کیا کرتے تھے ، لیکن اب وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔