جنگ میں یو اے ای شامل تھا؟ ٹرمپ کے دعویٰ پر نئی بحث

جنگ میں یو اے ای شامل تھا؟ ٹرمپ کے دعویٰ پر نئی بحث

میں نے پوچھا اتنے بم کون گرارہا جواب ملا یو اے ای، وہ اچھے فائٹر:ٹرمپ تاحال اماراتی حکومت کی جانب سے بیان پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا

واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں) ا مریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ میں یو اے ای کی شمولیت بارے بیان نے سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امیر متحدہ عرب امارات ایک ناقابلِ یقین جنگجو ہیں، گزشتہ ہفتے وہ بمباری کر رہے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ آخر اتنے بم کون گرا رہا ہے ؟ تو جواب ملا کہ یہ یو اے ای ہے ۔ وہ ایک اچھے فائٹر ہیں۔ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی صدر کا اشارہ کسی مخصوص فوجی کارروائی کی جانب تھا یا انہوں نے یہ بات علامتی انداز میں کہی۔تاحال متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح ایران کے خلاف کسی حالیہ اماراتی فضائی کارروائی کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بیان کی مزید وضاحت سامنے آتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور علاقائی اتحادوں کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دے سکتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں