جوہری ہتھیار کسی ملک کوسٹریٹجک فائدہ نہیں دیتے :عالمی تنظیم کا دعوی

جوہری  ہتھیار  کسی  ملک  کوسٹریٹجک  فائدہ  نہیں  دیتے :عالمی  تنظیم  کا  دعوی

اسرائیل اور امریکا جوہری طاقتیں، جنگ روکنے پر مجبور ہوئیں،مشرق وسطیٰ جنگ سے ایٹمی طاقتوں کی ناکامی واضح پائیدار امن کیلئے موجودہ اسلحہ ذخیرے پر توجہ ضروری،جوہری ہتھیار تحفظ نہیں عالمی خطرہ ثابت ہوئے :سربراہ آئی کین

جنیوا(اے ایف پی)جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم’’ آئی کین‘‘نے دعویٰ کیا ہے کہ  مشرق وسطیٰ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا فریم ورک معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جوہری ہتھیار کوئی سٹریٹجک فائدہ نہیں دیتے ۔آئی کین نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں سے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا۔جنگ فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔آئی کین کی سربراہ میلیسا پارکے نے ایک بیان میں کہا کہ اس جنگ کا سبق وہ نہیں جو جوہری طاقتیں ہمیں باور کرانا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا دو جوہری طاقتوں نے ایک ایسے ملک پر حملہ کیا جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے ، اور بالآخر وہی جوہری طاقتیں جنگ روکنے پر مجبور ہوئیں۔ان کے مطابق یہ واضح ہے کہ جوہری ہتھیاروں نے نہ تحفظ دیا اور نہ ہی کوئی دباؤ ڈالنے کی طاقت فراہم کی، بلکہ انہوں نے امریکا کو تہذیب کے خاتمے کے دہانے تک پہنچا دیا۔معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا"۔

تاہم آئی کین کے مطابق یہ اعلان دراصل اسی بات کی تصدیق ہے جو بین الاقوامی معائنہ کار پہلے ہی جنگ سے بہت پہلے واضح کر چکے تھے کہ ایران ایک غیر جوہری ریاست ہے ۔تنظیم نے نشاندہی کی کہ ایران 1970 سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے ’’این پی ٹی ‘‘ کا رکن ہے اور قانونی طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا گیا ہے ، جبکہ وہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی نظام کے تحت بھی ہے ۔آئی کین نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل واحد ریاست ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔اس کے مطابق اسرائیل کے پاس تقریباً 90 جوہری ہتھیار موجود ہیں اور وہ نہ این پی ٹی کا رکن ہے اور نہ ٹی پی این ڈبلیو کا۔تنظیم نے کہا پائیدار امن کے لیے اصل موجودہ ہتھیاروں کے ذخیرے پر توجہ دینا ضروری ہے ، نہ کہ اس ریاست پر دباؤ ڈالنا جس کے پاس جوہری ہتھیار ہی نہیں۔آئی کین نے امید ظاہر کی کہ حکومتیں اس جنگ سے درست نتیجہ اخذ کریں گی جس میں جوہری ہتھیار خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ سٹریٹجک طور پر بھی غیر مؤثر ثابت ہوئے ۔واضح رہے آئی کین نے جوہری ہتھیاروں کی ممانعت کے معاہدے کے مسودے میں اہم کردار ادا کرنے پر 2017 کا امن کا نوبیل انعام جیتا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں