ٹرمپ کو سب سے بڑی شکست،سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت کو محدود کرنیکا اقدام مسترد کردیا

ٹرمپ کو سب سے بڑی شکست،سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت کو محدود کرنیکا اقدام مسترد کردیا

عدالت کا امریکا میں پیدا ہونے والے ہر شخص کیلئے امریکی شہریت کا حق برقرار رکھنے کا حکم،یہ ٹرمپ کو تیسر ا عدالتی جھٹکا :برطانوی میڈیا فیصلہ ملک کیلئے نقصان دہ ہے ،اب کانگریس کے ذریعے قانون سازی کی کوشش کریں گے :ٹرمپ ،انسانی حقوق کی تنظیموں کا خیر مقدم

واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکی سپریم کورٹ نے منگل کو صدر ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت (برتھ رائٹ سٹیزن شپ) کو محدود کرنے کے اقدام کو مسترد کر دیا۔عدالت نے اپنی ٹرم کے آخری دن بے صبری سے انتظار کیے جانے والے فیصلے میں6/3کی اکثریت سے یہ حکم دیا کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً ہر شخص کے لیے امریکی شہریت کا حق برقرار رکھا جائے ۔ بی بی سی کے مطابق عدالتی فیصلہ غالباً وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی مدتِ صدارت کی سب سے بڑی شکست ہے ۔ اس سے قبل وہ غیر ملکی محصولات ٹیرف کے مقدمے میں بھی ہار چکے ہیں، لیکن یہ معاملہ خاصا اہم ہے کیونکہ اسے خود انہوں نے بڑی اہمیت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے ایک روز قبل پیر کو فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کک کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی کوشش کو مسترد کیا تھا ۔ اس طرح یہ ٹرمپ کو تیسر ا عدالتی جھٹکا ہے ۔عدالتی فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ اب وہ اس مقصد کے لیے کانگریس کے ذریعے قانون سازی کی کوشش کریں گے ۔ دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں اور چیلنج کرنے والے خاندانوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے آئین کی بالادستی قرار دیا ہے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں