یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپیں، 65ہلاک
16 یمنی فوجی ، 50 حوثی باغی مارے گئے ،سرکاری فورسز کے 22اہلکار زخمی حوثیوں نے مختصر وقت کیلئے بعض علاقوں پر قبضہ کیا ، جوابی کارروائی میں پسپا
صنعا،عدن(اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کے حوثی باغیوں نے بندرگاہی شہر الحدیدہ کے جنوب میں سرکاری حمایت یافتہ فورسز پر حملہ کرکے 16 اہلکاروں کو ہلاک اور22کوزخمی کر دیا۔عرب میڈیا کے مطابق جوابی حملے میں 50 سے زائد حوثی باغی مارے گئے ۔سرکاری حمایت یافتہ فورسز کے ایک افسر نے بتایا کہ جھڑپیں ضلع حیس کے جبل دُباس علاقے میں شروع ہوئیں، جہاں ایران نواز حوثیوں نے ابتدا میں چند فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا، تاہم ہفتہ کی صبح جوابی کارروائی کے بعد حکومتی فورسز نے دوبارہ ان پر کنٹرول حاصل کر لیا۔افسر کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے پہلے سنائپرز کے ذریعے حملہ کیا، جس میں زیادہ تر جانی نقصان ہوا، پھر ڈرونز اور مارٹر گولوں سے حملے کیے گئے ۔ ایک اور فوجی عہدیدار نے کہا کہ کئی گھنٹے جاری رہنے والی لڑائی کے بعد حوثیوں کا حملہ پسپا کر دیا گیا، باغیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔واضح رہے یمن میں 2015 سے حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان جاری جنگ میں لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بڑی جھڑپیں کم ہو گئی تھیں، تاہم حالیہ کشیدگی کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے ۔