علی خامنہ ای کی آخری رسومات ، وفود کی آمد پرآیات کی تلاوت توجہ کا مرکز
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک )ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کافی بحث چل رہی ہے ٍ،تقریبات کے دوران وفود کی آمد کے موقع پر پڑھی جانے والی قرآنی آیات اور وہاں نظر آنے والے مناظر نے بھی صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے ۔
پہلی چیز جس نے بہت سے صارفین کی توجہ حاصل کی وہ موسیقی تھی جو تعزیت کیلئے آنے والے وفود کے ہال میں داخلے کے وقت بجائی جاتی۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق علی خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایک باضابطہ میوزیکل ورک ترتیب دیا گیا ہے جس کا عنوان ’’شہید لیڈر‘‘ہے ، اسے ایرانی فنکار امیر حسین سمیعی نے ترتیب دیا ہے ۔یہ موسیقی چھ حصوں پر مشتمل ہے جنہیں امر ہو جانے ،سفر،باپ،دوبارہ زندہ کیے جانے ، جدائی اور الوداع کا نام دیا گیا ہے ۔موسیقی کے ان تمام حصوں کو آخری رسومات کی علیحدہ علیحدہ تقریبات کی مناسبت سے تیار کیا گیا ہے ۔بہت سے صارفین نے دیکھا کہ بعض سرکاری وفود جب ہال میں تعزیت کیلئے رکے تو اس وقت قرآنی آیات کی تلاوت کی گئی، تاہم بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ ہر وفد کے لیے مختلف آیات کا انتخاب کیا گیا تھا۔ کئی افراد نے سوال اٹھایا کہ آیا ہر وفد کے لیے منتخب کی جانے والی آیات کے پیچھے کوئی خاص وجہ تھی ؟۔جب حماس کا وفد تعزیت کیلئے آیا تو سورہ احزاب کی آیت 23 پڑھی گئی، جس میں اپنے عہد کو سچا کردکھانے والوں اور اب بھی انتظار کرنے والوں کا حوالہ دیا گیا ہے ۔جب لبنانی حزب اللہ کا وفد ہال میں آیا تو اس موقع پر سورہ المائدہ کی آیت نمبر 56 پڑھی گئی جس میں خدا کی جماعت کے غلبہ پانے کی بات کی گئی ہے ۔ایک سوشل میڈیا صارف نجاح محمد علی نے ہر وفد کیلئے مخصوص آیات پڑھے جانے کے الزام کو جھوٹا دعویٰ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مہمانوں کا احترام کرتا ہے اور وہ ایسا نہیں کرتا۔