زمبابوے :ڈائنوسار کی نئی نسل کی دریافت سے ارتقائی راز کھلنے لگے

زمبابوے :ڈائنوسار کی نئی نسل کی  دریافت سے ارتقائی راز کھلنے لگے

جوہانسبرگ(اے ایف پی)زمبابوے میں دریافت ہونے والی ڈائنوسار کی ایک نئی نسل نے سائنسدانوں کو ان جانداروں کے ارتقائی سفر اور مختلف علاقوں میں پھیلاؤ سے متعلق نئی معلومات فراہم کی ہیں۔۔۔

ماہرین کے مطابق اس دریافت سے اشارہ ملتا ہے کہ جنوبی افریقا میں ڈائنوسار مختلف ماحولیاتی نظاموں میں  تقسیم ہو کر رہتے تھے ۔سائنسدانوں نے بتایا کہ نئی دریافت ہونے والی نسل کا نام موسانگو ماتوسادونینسس رکھا گیا ہے ۔ اس کی بنیاد ایک ایسے ڈھانچے پر ہے جو 2018 میں شمالی زمبابوے میں جھیل کاریبا کے کنارے سے دریافت کیا گیا تھا۔ یہ ملک میں شناخت ہونے والی ڈائنوسار کی پانچویں نسل ہے ۔دریافت کرنے والی بین الاقوامی ماہرینِ حیواناتِ قدیم کی ٹیم کے مطابق یہ ڈائنوسار تقریباً 21 کروڑ سال پہلے آخری ٹرائیاسک دور میں زمین پر موجود تھا۔ اس زمانے میں ڈائنوسار دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہو رہے تھے ، لیکن ابھی زمین پر موجود دیگر بڑے جانداروں پر غالب نہیں آئے تھے ۔بعد کے ادوار میں نمودار ہونے والے دیوہیکل لمبی گردن والے ڈائنوسارز کے برعکس موسانگو کا جسم نسبتاً ہلکا پھلکا تھا۔ اس کی لمبائی تقریباً ساڑھے 4 میٹر (15 فٹ) اور وزن اندازاً 222 کلوتھا۔لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم کے محقق پال بیریٹ نے کہا اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ جنوبی افریقا میں رہنے والے ڈائنوسار زیادہ تر ایک جیسے تھے ۔ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خطہ دراصل کئی مختلف ماحولیاتی نظاموں پر مشتمل تھا، جہاں ہر علاقے میں ڈائنوسار کی الگ الگ نسلیں موجود تھیں۔یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ اب تک ہمیں جو کچھ ملا ہے ، وہ شاید صرف ایک بہت بڑے راز کا ابتدائی حصہ ہے ۔ماہرین کے مطابق یہ فوسل زمبابوے میں اسی دور کے دریافت ہونے والے سب سے مکمل ڈائنوسار ڈھانچوں میں شامل ہے ، جس میں ریڑھ کی ہڈی، پسلیاں، بازو، ٹانگیں اور پاؤں کی ہڈیاں محفوظ حالت میں ملی ہیں۔محققین نے اندازہ لگایا کہ موسانگو کی موت کے وقت عمر تقریباً آٹھ سال تھی اور وہ تقریباً مکمل طور پر بالغ ہو چکا تھا۔ ہڈیوں کے معائنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ کسی شدید چوٹ یا انفیکشن سے صحت یاب ہو چکا تھا۔اگرچہ اس کی کھوپڑی ابھی تک دریافت نہیں ہوئی، تاہم سائنسدانوں کا خیال ہے کہ موسانگو ممکنہ طور پر سبزی خور یا ہمہ خور ڈائنوسار تھا، جو دریاؤں اور ندی نالوں کے کناروں پر اگنے والے پودوں کو بطور خوراک استعمال کرتا تھا۔2022 میں بھی زمبابوے کے سائنسدانوں نے افریقا کے قدیم ترین ڈائنوسار کی باقیات دریافت کی تھیں، جو تقریباً 23 کروڑ سال پہلے زمین پر موجود تھا۔اس ڈائنوسار کا نام مبیرے سورس رائتی رکھا گیا تھا۔ اس کا قد صرف تقریباً ایک میٹر تھا، لمبی دم تھی اور اس کا وزن زیادہ سے زیادہ 30 کلو تک تھا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...