ڈیل یا سرنڈر،ایران کیساتھ مذاکرات ہو رہے :ٹرمپ نہیں ہورہے :ایرانی ترجمان
پاکستان ثالث، جہاں ضرورت ہوقطر مدد کرتا ہے ، چین دیگر ممالک کی طرح معاونت کررہا:بقائی،اسحاق ڈار کی عباس عراقچی کو دورہ پاکستان کی دعوت عمان کیساتھ نئے متفقہ راستے پر مذاکرات جاری، تجارتی جہاز کے قریب دھماکا،2 سعودی تیل بردار ٹینکر باب المندب عبورکرگئے ، تیل کی قیمت میں کمی
تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران کے ساتھ مذاکرات ہورہے ہیں، ڈیل ہو گی یا سرنڈر کرنا پڑے گا، جبکہ ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات جاری ہیں اور نہ ہی کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ ہے ،ایران نے یہ بھی کہا مذاکرات میں پاکستان ہی ثالث ہے ،کوئی نیا ثالث شامل نہیں ہوا، جہاں ضرورت ہوقطر مدد کرتا ہے ، چین کو تنازع میں اضافے پر تشویش ہے اور وہ دیگر ممالک کی طرح معاونت کررہا ہے ۔ جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے دورہ اسلام آبادکی دعوت دے دی۔گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ نے ایک بار پھر وہی طرزِ عمل دہرایا جو گزشتہ پانچ ماہ کے دوران بارہا دیکھنے میں آیا ہے ۔ انہوں نے پہلے ایران پر بڑے پیمانے کے حملوں کا اعلان کیا، مگر پھر آخری لمحے میں یہ منصوبہ منسوخ کر دیا۔ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ایرانی قیادت کو ناقابلِ یقین حد تک دوغلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات کی درخواست خود ایران نے کی تھی اور مزید مذاکرات مستقبلِ قریب میں ہونے والے ہیں۔انہوں نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے ، جسے انہوں نے امریکا کی فولادی دیوارسے تعبیر کیا ، انہوں نے کہا ایران تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی، جب تک ہم ایسا نہ چاہیں، اور نہ ہی کوئی چیز وہاں پہنچ سکے گی، جب تک کوئی ڈیل طے نہیں پا جاتی یا پھر مکمل سرنڈر نہیں کردیا جاتا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات جاری ہیں اور نہ ہی کسی ملاقات کا شیڈول طے کیا گیا ہے ۔
ان کے مطابق آئندہ چند روز میں ایران نہ کسی غیر ملکی وفد کی میزبانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور نہ ہی اپنے مذاکرات کاروں کو بیرونِ ملک بھیجنے کا کوئی منصوبہ ہے ۔بقائی نے مزید بتایا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاوہ تمام ایرانی مذاکرات کار اس وقت ملک کے اندر موجود ہیں۔ عراقچی عراق میں مذہبی زیارت پر گئے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول اس وقت صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام سے متعلق بات چیت جاری ہے ۔انہوں نے کہاہماری کوشش ہے کہ عمان کے ساتھ مشاورت اور تعاون سے جلد از جلد ایسا راستہ طے کیا جائے جس کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے ،انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ کسی مفاہمت کا مطلب آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھل جانا نہیں ہے ۔اسماعیل بقائی نے کہا متفقہ راستہ نہ موجودہ شمالی راستہ ہو گا اور نہ موجودہ جنوبی راستہ، بلکہ ایک نیا راستہ ہو گا جس پر دونوں فریق متفق ہوں گے ۔انہوں نے کہا آبنائے ہرمز کسی بھی صورت 28 فروری سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔اسماعیل بقائی نے مزید کہا ایران اور امریکا سے متعلق معاملات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے ،جہاں ضرورت ہو قطر مدد کرتا ہے ۔انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات میں کوئی نیا ثالث شامل نہیں ،انہوں نے کہا چین کو خطے میں تنازع اور عدم تحفظ میں اضافے پر تشویش ہے ،ہمارے چینی دوست صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کیلئے اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس حوالے سے چین کئی دیگر ممالک کی طرح مدد کر رہا ہے ۔
انہوں نے کہا ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ محض ایک ملک تک محدود نہیں،یہ جنگ پورے خطے کے خلاف اور خطے کے تمام ممالک کی سلامتی کے خلاف ہے ،ان پانچ مہینوں میں ہم نے خود دیکھا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور خلیج فارس کے جنوبی کنارے پر واقع ممالک کی سرزمین اور تنصیبات کے استعمال نے خطے کے تمام ممالک کیلئے عدم تحفظ اور عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے ۔لہٰذا یہ فطری بات ہے کہ خطے کے ممالک اس صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے کوششیں کرنا چاہتے ہیں۔ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بھی رائٹرز کو بتایا کہ کسی قسم کے مذاکرات طے نہیں کیے گئے ، جبکہ عباس عراقچی کم از کم ہفتے کے اختتام تک کسی بھی ممکنہ مذاکرات کیلئے دستیاب نہیں ہوں گے ۔ادھر ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عراق کے وزیرِ خارجہ فواد حسین کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا، جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے ، علاقائی سطح پر رابطہ کاری مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر بھی گفتگو کی۔
اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے سے متعلق مشترکہ ترجیحات اور اہم معاملات پر ایران اور عراق کے درمیان مسلسل مشاورت اور قریبی تعاون جاری رکھا جائے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کشیدگی کا دائرہ وسیع نہیں کرنا چاہتا، انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ ایران اپنے امن اور سلامتی اور سرزمین کے دفاع کیلئے بھرپور اور پوری طاقت کیساتھ مقابلہ کرے گا۔تاہم پیر کے روز ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی مؤخر کرنے کے تازہ فیصلے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی اور برینٹ خام تیل کے سودے تقریباً 5 فیصد گر کر 83.52 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ آ گئے ۔آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے تازہ واقعے کے بارے میں برطانیہ کے بحری سلامتی کے ادارے یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ رات کے وقت ایک تجارتی جہاز کے کپتان نے اپنے جہاز کے قریب پانی میں دھماکے کی اطلاع دی، تاہم اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو نائن ڈرون کو مار گرایا ہے ،تاہم پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون کو کب اور کس وقت مار گرایا گیا۔ادھر گزشتہ ہفتے کے اختتام پر سعودی تیل سے لدے دو ٹینکرز آبنائے باب المندب (بحیرہ احمر)عبور کر گئے ۔پیر کے روز سامنے آنے والے کیپلر ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی تعداد اتوار کے روز کم ہو کر 18 رہ گئی، جو ہفتے کو 27 اور جمعے کے روز 28 تھی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments