ایک طیارے میں ٹرمپ دوسرے میں جانشین موجود
روبیو، بیسنٹ پہلے طیارے میں رہے ، ٹرمپ کو کچھ ہونے پر جانشینی برقرار رہتی طیارے نے دھوکہ دینے کے لیے ’’ایئر فورس ون‘‘ کا کال سائن برقرار رکھا
واشنگٹن ( نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے سیکرٹ سروس کی ہدایت پر ترکیہ میں اپنا طیارہ خفیہ طور پر تبدیل کیا، تاہم ان کا ماننا ہے کہ جس نئے ملٹری طیارے میں وہ سوار ہوئے ، وہ ایئر فورس ون کے مقابلے میں زیادہ خطرناک یا خطرے کی زد میں ہو سکتا تھا۔ میڈیا اور تبصرہ نگاروں نے سوال اٹھایا کہ ایئر فورس ون میں موجود صدارتی عملے اور صحافیوں کو بغیر اطلاع صدارتی طیارے پر سفر کروانے سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا۔ٹرمپ نے ایران کے خطرے پر طیارہ بدلا، تاہم وزیر خارجہ روبیو اوروزیر خزانہ بیسنٹ پہلے طیارے میں ہی رہے ۔ تاکہ یہ تاثر برقرار رہے کہ ٹرمپ بھی اسی میں سفر کر رہے ہیں۔ طیارے نے دھوکہ دینے کے لیے ‘‘ایئر فورس ون’’ کا کال سائن برقرار رکھا۔ اس طرح باہر سے یہی معلوم ہوتا رہا کہ صدر اسی طیارے میں موجود ہیں۔سی بی ایس کے مطابق روبیو اور بیسنٹ پہلے طیارے میں اس لیے موجود رہے تاکہ اگر ٹرمپ کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا تو صدارتی جانشینی کا نظام برقرار رہتا۔امریکی آئین کے تحت اگر صدر کا انتقال ہو جائے یا وہ اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہیں تو نائب صدر جے ڈی وینس صدر کا منصب سنبھالتے ہیں۔ ان کے بعد ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر اور پھر سینیٹ کے صدر پرو ٹیمپورے کا نمبر آتا ہے ۔اس کے بعد وزیر خارجہ صدارتی جانشینی کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں، جن کے بعد وزیر خزانہ کا نمبر آتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments