حوثی حملوں کا خطرہ، سعودی آئل ٹینکرز کے ٹریکنگ سگنلز بند
ٹریکنگ سگنلز بند کرکے سفر کرنے سے تیل برآمدات کی شفافیت متاثر
لندن (رائٹرز)بحیرہ احمر کے راستے سے سعودی عرب کے خام تیل کی برآمدات تیزی سے منظر عام سے غائب ہو رہی ہیں کیونکہ آئل ٹینکرز یمن کے ایران نواز حوثیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے اپنے ٹریکنگ سگنلز بند کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ینبع سے ہونے والی تمام حالیہ لوڈنگ "ڈارک" (بغیر ٹریکنگ کے ) کی گئی ہیں۔ حوثیوں نے سعودی عرب سے منسلک آئل ٹینکرز، ینبع میں تیل کی تنصیبات اور حال ہی میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع جازان ریفائنری پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے جس کی وجہ سے مزید بحری جہاز عوام کے لیے دکھائی دینے والے ٹریکنگ ڈیٹا کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ٹریکنگ سگنلز بند کر کے سفر کرنے کے اس عمل کی وجہ سے سعودی تیل کی برآمدات کی شفافیت متاثر ہو رہی ہے ، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ حوثیوں کی دھمکیاں خام تیل کی فراہمی کو کس حد تک متاثر کر رہی ہیں۔ تین اگست سے شروع ہونے والے ہفتے میں ڈیٹا اینالیٹکس فرم ’’وورٹیکسا ‘‘نے اندازہ لگایا کہ ینبع سے تیل کی لوڈنگ کم ہو کر 23لاکھ80ہزار بیرل روزانہ رہ گئی جو اس سے پچھلے ہفتے 27لاکھ10ہزار بیرل تھی جبکہ کیپلر نے اس سے زیادہ تیز گراوٹ کا تخمینہ لگاتے ہوئے اسے 40لاکھ40ہزار بیرل سے کم ہو کر 17لاکھ80ہزار بیرل روزانہ بتایا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments