ایران کا امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار پر شہریوں کیلئے انعام کا اعلان

ایران کا امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار پر شہریوں کیلئے انعام کا اعلان

کارروائی کرنے پر 30 ہزار ڈالر کے برابر انعام دیا جائے گا،خواتین کو انعامی رقم دگنا ملے گی :سربراہ ایرانی فوج ایران کا قطر پر 3 پائلٹوں کی گرفتاری کی تحقیقات میں رکاوٹ کا الزام ،سعودی شہر جازان میں خطرے کا الرٹ

تہران،ریاض (اے ایف پی)ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے والے افراد کیلئے  30 ہزار ڈالر کے برابر انعام دیا جائے گا، اگر یہ کارروائی کسی خاتون کی جانب سے کی گئی تو انعام کی رقم دگنی ہوگی۔سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے کہا کہ یہ منصوبہ شہریوں کی جانب سے مالی معاونت میں حصہ لینے کیلئے بڑی تعداد میں موصول ہونے والی درخواستوں کے بعد تیار کیا گیا ہے ۔امیر حاتمی نے یہ نہیں بتایا کہ امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے کی کارروائی کہاں یا کب متوقع ہے ؟۔انہوں نے کہاجو کوئی بھی حملہ آور امریکی فوجی اہلکار کو ہلاک یا گرفتار کرکے ایران کی فوج کے حوالے کرے گا، اسے 30 ہزار ڈالر یا 5 ارب تومان کے برابر انعام دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا بہادر ایرانی خواتین جو ایسی کارروائی انجام دیں گی، انہیں دگنا انعام دیا جائے گا۔ سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے یمن کی سرحد سے متصل جنوبی صوبے جازان میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا۔ سعودی حکام کے مطابق نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے جازان کے علاقے میں ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا گیا ہے ۔

شہری دفاع کے بیان میں الرٹ کی نوعیت کی مزید وضاحت نہیں کی گئی۔جازان کو حالیہ عرصے میں یمنی باغیوں کی جانب سے حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ، جس کے باعث علاقے میں سکیورٹی اقدامات بڑھا دئیے گئے ہیں۔ ایران نے قطر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ کے دوران تین ایرانی پائلٹوں کے لاپتا ہونے سے متعلق تحقیقات میں رکاوٹ ڈال رہا ہے ،ایرانی مسلح افواج کے جنرل محمد باقر زادہ نے کہا کہ ایرانی فضائیہ کے ماہرین کئی ماہ سے قطر جاکر موقع پر تحقیقات کے منتظر ہیں، تاہم قطری حکام کی مسلسل تاخیر کے باعث پائلٹوں کی وطن واپسی ممکن نہیں ہو سکی۔یمن میں حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان دوبارہ کشیدگی نے ملک میں بھرپور جنگ کے خدشات بڑھا دئیے ہیں۔ ایک دہائی سے جاری خانہ جنگی میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ 2022 کی جنگ بندی سے نسبتاً امن قائم ہوا تھا۔ حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کے حملوں کے بعد حکومتی جوابی کارروائیوں نے شہریوں میں خوف پیدا کردیا ہے ۔ موخا کے رہائشیوں کے مطابق میزائل اور ڈرون حملوں سے دوبارہ نقل مکانی کا خدشہ ہے ۔ 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...